خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 470

خطبات محمود ۴۷۰ سال ۱۹۳۸ء جیسے حضرت موسیٰ اور گڈریے کا واقعہ ہے اور گو یہ ایسی بات تھی جو معمولی ایمان والے شخص کو مرتد کرنے کے لئے کافی تھی مگر چونکہ وہ کمال اخلاص اور دین کی خدمت کی حسرت سے کہہ رہے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسے قبول کیا اور کچھ عرصہ بعد اُحد کی جنگ پیش آگئی جس میں پہلے مسلمانوں کو فتح ہو گئی۔بعض مستغنی المزاج لوگوں نے کہا کہ فتح تو ہوگئی مال کیا کرنا ہے اس لئے ادھر ادھر پھیل گئے لیکن بعد میں فتح شکست سے بدل گئی۔ابو عامر ایک شخص کفار کے لشکر میں تھا اس کی یہودیوں کے ساتھ رشتہ داری تھی مگر وہ مکہ چلا گیا تھا ہوشیار آدمی تھا۔اسے معلوم تھا کہ مسلمان جیت جایا کرتے ہیں اس لئے اس نے گڑھے کھود کر اوپر تنکے وغیرہ ڈال دیئے تھے تا مسلمان فتح پانے کے بعد جب آگے بڑھیں گے تو ان میں گر جائیں گے۔انہی گڑھوں کی میں سے ایک میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گر گئے۔آپ کے اوپر کئی اور صحابہ شہید اور زخمی ہو کر گرے۔اور یہ خیال ہو گیا۔کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔یہی حضرت انس بن نضر کھجور میں کی کھاتے پھرتے تھے کہ حضرت عمرؓ کو ایک پتھر پر سر جھکائے نہایت دلگیر دیکھا تو پوچھا کہ پریشانی کی کیا وجہ ہے۔مسلمانوں کو فتح ہوئی یہ خوش ہونے کی بات ہے یا غمگین ہونے کی۔حضرت عمرؓ نے کہا نضر تمہیں پتا نہیں کیا ہو گیا؟ دشمن نے پھر حملہ کر دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے۔حضرت نضر کھجوریں کھا رہے تھے صرف ایک کھجور باقی تھی وہ بھی پھینک دی اور کہا کہ میرے اور جنت کے درمیان کیا ہے صرف ایک کھجور ہے۔اور حضرت عمرؓ سے کہا کہ جب کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہیں رہے تو ہم نے دنیا میں رہ کر کیا کرنا ہے۔تلوار لے کر دشمن پر ٹوٹ کی پڑے اور آخر شہادت پائی۔جب لاش دیکھی گئی تو اسی زخم تھے۔آپ کی انگلی پر ایک نشان تھا اور اسی سے آپ کی بہن نے لاش کو شناخت کیا ور نہ پہچاننا مشکل تھا۔یہ وہ شخص تھا کہ جس نے جب سنا کہ لوگ بھاگ گئے ہیں تو اس نے کہا کہ انہوں نے اپنے اعمال کا جواب دینا ہے اور میں نے اپنے کا۔مجھے کیا اگر دوسرے بھاگ گئے ہیں ، میں تو وہیں جاؤ نگا جہاں رسولِ خدا کی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔تو دیکھو ایسے نازک موقع پر تین سو آدمی ہزار میں سے کوٹ جاتا ہے مگر صحابہ بھی کس دل گردے کے آدمی تھے کہ پرواہ نہیں کرتے۔اسی طرح ایک اور مخلص صحابی کا واقعہ ایسا رقت انگیز ہے کہ کوئی شخص بغیر رقت اسے