خطبات محمود (جلد 19) — Page 469
خطبات محمود ۴۶۹ سال ۱۹۳۸ اس طرح فلاں لڑکے کو شامل کر لیا گیا ہے حالانکہ میں تو اسے گرالیتا ہوں۔انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یہ لڑکا اس طرح کہتا ہے۔آپ کو اس بات کا لطف آیا چنانچہ آپ نے فرمایا کہ اچھا آؤ دونوں کی کشتی کراتے ہیں۔یہ لڑکا طاقتور تھا یا نہ تھا مگر چونکہ اس کے دل میں جوش تھا کہ کسی نہ کسی طرح شامل ہو جاؤں اس لئے ایسا زور لگایا کہ اسے گرا کر سینہ پر بیٹھ گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب تمہارا حق ہو گیا۔اے اب چلو۔تو پندرہ پندرہ برس کے بچوں کو بھی ساتھ لے جانا بتا تا ہے کہ وہ وقت مسلمانوں کے لئے کس قدر خطر ناک تھا مگر سب کو ملا کر مسلمانوں کی تعداد ایک ہزار تھی اور مقابل پر مکہ کے کفار کا لشکر تین ہزار تھا اور کچھ لوگ دوسری قوموں کے بھی تھے لیکن جب یہ ایک ہزار کا لشکر مدینہ سے تین چار میل باہر آیا تو عبداللہ بن ابی کے ساتھ تین سو مسلمان واپس ہو گئے کہ ہم نہیں جا سکتے ذرا اس حالت کا اندازہ کرو کہ ایک ہزار میں سے تین سوکوٹ پڑتے ہیں اور اس جگہ سے لوٹتے ہیں جہاں خدا تعالیٰ کا رسول خود موجود ہے۔اس کی نظروں کے سامنے اٹھتے اور واپس ہو جاتے ہیں۔اور تین سو ہزار میں سے تمیں فیصدی ہے۔قادیان میں دس ہزار احمدی آباد ہیں۔اس نسبت سے تین ہزار بنتا ہے مگر وہاں تین سو آدمی ایسے نازک موقع پر چلے جاتے ہیں اور صحابہ ذرا بھر پر واہ نہیں کرتے۔مگر تم ہو کہ تین آدمیوں کے منافق ہونے کا علم ہونے سے گھبرا جاتے ہو حالانکہ خدا تعالیٰ کے سلسلہ میں تین نہیں ، تین سو ، تین ہزار بلکہ تین لاکھ بھی منافق ہوں اور کامل مؤمن ان کے مقابلہ میں ایک ہی ہو تو بھی وہ نہیں ڈرے گا۔اور کہے گا کہ تم شیطان کے ساتھی ہو اس کی لئے بے شک اس کی طرف چلے جاؤ لیکن میں خدا تعالیٰ کا ہوں اس لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا۔حضرت انس بن نضر ایک صحابی تھے جو جنگ بدر میں شامل نہ ہوئے تھے کیونکہ اس وقت کوئی عام احساس نہ تھا کہ لڑائی ہوگی اس لئے خصوصاً انصار میں سے بہت سے لوگ رہ گئے تھے۔جب انہوں نے جنگ کی خبر سنی تو دل میں غصہ آتا تھا اور کہتے تھے کہ اگر پھر کبھی جنگ ہوئی تو میں اللہ تعالیٰ کو بتاؤں گا کہ کس طرح لڑا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ دیکھ لے گا کہ مؤمن کسی طرح لڑتے ہیں۔یہ گو جہالت کی بات تھی مگر چونکہ وہ اخلاص سے کہتے تھے اور ایسی ہی بات تھی