خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 471

خطبات محمود ۴۷۱ سال ۱۹۳۸ء پڑھ بھی نہیں سکتا چہ جائیکہ بیان کر سکے۔جب یہ تین سو آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر کوٹ گئے تو عبد اللہ بن عمر و جو انصار میں سے تھے، مسلمان اور خصوصاً احمدی ان کو جانتے ہیں، جیسا کہ میں آگے چل کر بتاؤں گا وہ یہ برداشت نہ کر سکے۔اور انہیں سمجھانے کے لئے یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اس وقت تین سو کے کوٹنے سے ان کا مؤمنانہ استغناء بھی متزلزل ہو گیا تھا، خیر تو حضرت عبد اللہ بن عمروان کے پاس گئے اور جو الفاظ انہوں نے کہے وہ بتاتے ہیں کہ اس وقت ان کی وہی حالت تھی جو ہمارے ملک میں ایک مصیبت زدہ کی ہوتی ہے جو شدت غم اور بے بسی کی کی حالت میں اپنے پر رحم دلانے کے لئے ہاتھ باندھ باندھ کر اپنے مخاطب سے التجا کرتا ہے کہ وہ الفاظ جن میں انہوں نے ان منافقوں کو مخاطب کیا وہ یہ ہیں۔اے میری قوم! میں تمہیں خدا تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اس طرح اپنے نبی کو چھوڑ کر نہ جاؤ سے ان کی یہ بات بتاتی ہے کہ اُس وقت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لئے ایسا خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ عبد اللہ جیسے بہادر کے مؤمنانہ استغناء میں بھی تزلزل آگیا مگر ان ظالموں نے آگے سے یہ جواب دیا کہ اگر ہم جانتے کہ یہ لڑائی ہے تو ضرور لڑتے۔یعنی یہ تو لڑائی نہیں خود کشی کی ہے۔ایک دوست نے کچھ عرصہ ہوا میرے ایک خطبہ میں یہ معنی سن کر مجھے لکھا تھا کہ اس آیت کے تو یہ معنی ہیں کہ ہمیں لڑنا آتا تو ہم کبھی واپس نہ کو ٹتے لیکن اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ معنی وہی صحیح ہیں جو میں کرتا ہوں۔عبداللہ بن اُبی ایک جرنیل تھا اُسے کیا لڑنا نہیں آتا تھا ؟ یہاں کی نَعْلَمُ کے معنے نَعْرِف ہیں۔یعنی اگر ہم اسے قتال قرار دیتے ، اگر اسے لڑائی سمجھتے تو یہ تو خود کشی ہے۔جب اُنہوں نے یہ جواب دیا تو حضرت عبداللہ نے کہا کہ اچھا اگر جاتے ہو تو جاؤ پر واہ کی نہیں ہم تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتے ہیں۔وہ ( حضرت عبداللہ بن عمرو ) بھی شہید ہوئے اور ان کی لاش پر بھی بہت زخم تھے۔غریب آدمی تھے اور خاندان بڑا تھا اس لئے مقروض بھی رہتے تھے۔ان کے لڑکے حضرت جابر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ سر نیچے ڈالے بیٹھے ہیں تو دریافت فرمایا کہ جابر کیوں کیا بات ہے؟ اس نے عرض کیا یا رَسُول اللہ ! آپ جانتے ہیں باپ مر گیا ہے۔عیالداری ہے، قرضہ بھی بہت ہے اور یہ سب بوجھ مجھ پر آپڑا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہیں علم ہو کہ تمہارے باپ کے ساتھ