خطبات محمود (جلد 19) — Page 391
خطبات محمود ۳۹۱ سال ۱۹۳۸ء منع کیا جائے تو وہ یہ کہہ دیتا ہے کہ صرف برکت کے لئے یہاں کی چیز لی ہے۔آخر میں نے انجمن والوں کو حکم دیا کہ یہاں کے پھول اور پھل آئندہ فروخت نہ کئے جائیں کیونکہ اس طرح مہمانوں کی ہتک بھی ہوتی ہے اور خواہ مخواہ لوگوں کو مصیبت میں ڈالا جاتا ہے کیونکہ لوگ برکت کی چیز خیال کر کے ہاتھ ڈال ہی دیتے ہیں۔تو چوری بُری چیز ہے۔مگر بعض لوگوں کے لئے بعض مواقع پر یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ فلاں کام بھی چوری ہے۔ہاں ایک دوسرے فعل کو وہ فورا چوری قرار د دے دیں گے اور انہیں غصہ آجائے گا کہ یہ ایسا گندہ شخص ہے جو چوری کرتا ہے۔اب آپ لوگ خیال کر لیں کہ چوری کی بھی کئی اقسام ہیں اور صرف چوری کے نام سے یہ سمجھنا صحیح نہیں کہ سب چوریاں ایک ہی قسم کی ہوتی ہیں۔ٹکٹ کی چوری کرنے والا بھی چور ہے مگر وہ کسی کی بھینس یا روپیہ نہیں چرائے گا بلکہ اسے بہت بُرا سمجھے گا۔بعض بڑے بڑے معززائی۔اے سی اور ڈپٹی کمشنر کے مرتبہ کے لوگ پلا ٹکٹ سفر کرتے ہیں۔کچھ عرصہ ہوا ایک ڈپٹی کمشنر کو سزا ہوئی تھی کہ وہ ہمیشہ پلیٹ فارم کی ٹکٹکی لے کر ریل میں سوار ہو جاتا تھا اور جہاں پہنچنا ہوتا وہاں کسی دوست کو لکھ دیتا کہ میرے لئے ایک پلیٹ فارم ٹکٹ لیتے آنا اور وہی دکھا کر باہر چلا جاتا۔وہ خود منہ میں جھاگ لا لا کر چوروں کی کو سزا دیتا ہوگا۔کہ خبیثو اور بے حیا کا تمہیں شرم نہیں آتی چوری کرتے ہومگر خود اسے احساس تک نہیں تھا۔مختصر یہ کہ نیکیوں اور جرائم کی اقسام ہوتی ہیں۔یہ نہیں جو ایک قسم کی چوری کرتا ہے وہ دوسری قسم کی بھی کر سکتا ہے۔نہ صرف یہ کہ وہ اسے کر نہیں سکتا بلکہ بہت بُراسمجھتا ہے۔پس جو شخص ایک جگہ جوش دکھاتا ہے ضروری نہیں کہ دوسری جگہ ایسا کرتا ہو اور دوسری جگہ عادت نہ ہونے کی وجہ سے دکھانا بے غیرتی کی وجہ سے ہو۔عین ممکن ہے ایک جگہ وہ عادت کی وجہ سے اور پھر ایک جگہ غلطی دیکھ کر ہمارا یہ فرض نہیں کہ دوسری جگہ بھی غلطی کرا ئیں بلکہ چاہئے کہ اس جگہ بھی صحیح کرا ئیں۔یہ نہیں کہنا چاہئے کہ اے بے غیر تو ! اپنے ماں باپ کے لئے گالی سن کر تم جوش میں آجاتے ہو لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے سن کر کیوں جوش میں نہیں آتے بلکہ ہمیں یہ کہنا چاہئے کہ اے عزیزو! اپنے لئے اور اپنے رشتہ داروں کے لئے جوش دکھا کر