خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 392

خطبات محمود ۳۹۲ سال ۱۹۳۸ء تم اپنی حالت کو کیوں مشتبہ کرتے ہو۔ہمت کرو اور جس طرح حضرت مسیح موعود وعلیہ الصلوة والسلام کے متعلق گالی سن کر تم صبر دکھاتے ہو اسی طرح اپنے اور اپنے ماں باپ کے متعلق سن کر صبر دکھاؤ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا اِتَّقُوا مَوَاقِعَ الْفِتَنِ 2 لوگوں کو اپنے اوپر اعتراض کا موقع نہ دو۔پس یہ میچ نہیں کہ ایک جگہ اگر کوئی غلطی کرے تو دوسری جگہ بھی اسے غلطی کرنے کے لئے کہیں بلکہ کوشش یہ کرنی چاہئے کہ دونوں موقعوں پر غلطی سے بچنے کے لئے کہیں۔قادیان کے ایک معزز دوست کا خیال تھا کہ ممکن ہے مصری اور اس کے ساتھی جو الزام خلیفہ المسیح اور خاندان مسیح موعود پر لگاتے ہیں یہ غلط فہمی ہے اور وہ نیک نیتی سے ایسا سمجھتے ہیں اس لئے ان پر اظہار ناراضگی نہیں کرنا چاہئے۔انہیں ایام میں احتیاطا ریل پر بٹالہ آنے اور جانے والے آدمیوں کے نام لکھے جاتے تھے تا یہ معلوم ہو سکے کہ ان لوگوں سے ملنے کے لئے منافق لوگ کیا کیا تدبیریں کرتے ہیں لا زما ان ایام میں ہر شخص کا نام لکھا جاتا تھا ں ہر شخص کا نام لکھا جاتا تھا حتی کہ خود ناظروں کا نام بھی لکھا جاتا تھا انہیں کسی طرح معلوم ہوا کہ ان کا نام بھی بعض دفعہ لکھ کر فہرست میں پیش ہوا ہے انہیں اس پر بہت جوش آ گیا اور اس پہرہ دار سے لڑ پڑے کہ میں تجھے سیدھا کر دوں گا۔جب ذمہ دار کارکنوں تک یہ رپورٹ پہنچی تو انہوں نے ان کی اس حرکت کو بہت بُرا منایا اور بعض نے اسے منافقت کا نتیجہ قرار دیا۔جب میرے پاس یہ رپورٹ آئی تو میں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان صاحب نے اپنے آپ کو خود ایک الزام کے مقام پر کھڑا کر دیا ہے اور کہنے والا سکتا ہے کہ صاحب مصری پر اظہار ناراضگی ان تمام الزامات کے باوجود جو وہ خلیفہ پر لگا تا تھا آپ کے نزدیک قابل رنج نہ تھا مگر آپ کا محض نام لکھ دینا ایک نا قابلِ معافی گناہ بن گیا ہے لیکن پھر بھی ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ یہ ان کا غصہ عادت کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔ممکن ہے کہ ان کو اپنے متعلق غصہ آنے کی عادت پڑی ہو اور ہم چونکہ یہی کہتے رہتے ہیں کہ دشمنوں کی گالیوں پر صبر سے کام لو، اس موقع پر ان کے خیالات دیانتداری سے یہی ہوں لیکن اپنے متعلق شبہ کے وقت چونکہ کوئی ایسی تعلیم سامنے نہ تھی ان کو غصہ آ گیا۔پس چونکہ ان کے فعل کی ایک کی دوسری تو جیہہ ہوسکتی ہے اس لئے بدظنی کرنے یا ان کو منافق سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں۔تو ایسے واقعات کثرت سے پیش آتے رہتے ہیں اور مومن کا یہی کام ہے کہ وہ نیکی والا پہلو لے۔