خطبات محمود (جلد 19) — Page 305
خطبات محمود ۳۰۵ سال ۱۹۳۸ء یہ بات گڑ جائے کہ اس کے سپرد کیا کام ہے۔ہمارا ایک زمیندار جس وقت ہل چلا رہا ہو جب اس کے تن پر پورا کپڑا بھی نہ ہو، جب ایک معمولی تہبند اُس نے باندھا ہو ا ہو اُس وقت گو وہ ہل کی چلا رہا ہو مگر اُس کے دل میں یہ خیال موجزن ہونا چاہئے کہ وہ کونسا ذریعہ ہے جس کے ماتحت اسلام کا جھنڈا میں دنیا کے تمام لوگوں کے دلوں پر گاڑ سکتا ہوں۔ہمارا ایک درزی جس وقت سوئی چلا رہا ہو جس وقت اسے یہ معلوم نہ ہو کہ آج کی مزدوری میرے بیوی بچوں کے کھانے کی کیلئے کافی بھی ہوگی یا نہیں یہی خیالات اس کے دل میں بار بار اٹھنے چاہئیں کہ وہ کونسا ذریعہ ہے کہ جس سے کام لیتے ہوئے اسلام تمام دنیا پر غالب آ سکتا ہے اور ادیانِ باطلہ شکست کھا سکتے ہیں۔ہمارا ایک سقہ جس وقت مشک اُٹھائے جا رہا ہو جب اس کے بوجھ کے نیچے اس کی کمرخم ہورہی ہو، اس کے دماغ میں یہی خیالات پیدا ہونے چاہئیں کہ وہ کون سے ذرائع ہیں جن سے کام لیتے ہوئے اسلام کو دنیا پر غالب کیا جا سکتا ہے۔ہمارا ایک مزدور جس وقت من دومن بوجھ اُٹھائے جارہا ہو ، جب گرمی کی شدت سے اس کا پسینہ بہہ رہا ہو ، جب اس کا سر بوجھ کے مارے جھٹکا جا رہا ہو، اُس وقت بھی اس کے دماغ میں یہی خیالات اٹھنے چاہئیں کہ کن ذرائع سے کام لیتے ہوئے اسلامی تعلیم کا احیاء ہوسکتا ہے اور وہ کون سے طریق ہیں جن کے ماتحت اسلام کو تمام دنیا پر غالب کیا جاسکتا ہے۔جب یہ کیفیت ہماری جماعت کے تمام دوست اپنے اندر پیدا کرلیں گے تو اس کے نتیجہ میں ان کے اندر ایسی روح پیدا ہو جائے گی کہ وہ آستانہ الہی کی طرف تمام دنیا کو کھینچ کر لے آئیں گے اور جس قدر مخالف طاقتیں ہیں اُن کو کچل کر رکھ دیں گے۔مگر ہمارا چلنا تلواروں سے نہیں بلکہ تبلیغ کے ذریعہ ہوگا ، ہمارا کچلنا تعلیم کے ذریعہ ہوگا ، ہمارا کچلنا ترغیب کے ذریعہ ہوگا۔ہم لوگوں کے خیالات میں تبدیلی پیدا کریں گے اور اس کے بعد ان کے جسموں پر قبضہ کر لیں گے۔یہ نہیں ہوگا کہ ان کے جسموں پر قبضہ کر کے ان کے خیالات میں تبدیلی پیدا کریں۔اسی کیلئے میں نے مختلف شکلوں میں بعض انجمنیں قائم کی ہیں مگر غرض صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ ان خیالات کو دور کیا جائے جو اسلام کے خلاف دنیا میں پیدا ہو گئے ہیں۔دنیا اس وقت قسم قسم کے ظلموں کے نیچے دبی ہوئی ہے۔کوئی کسی فلسفہ کے ماتحت ظلم کر رہا ہے اور کوئی کسی فلسفہ کے ماتحت مگر انسان کی حقیقی راحت کیلئے جو تعلیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے