خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 306

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء نازل ہوئی تھی اسے لوگوں نے بھلا رکھا ہے۔پس یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اس تعلیم کو دنیا میں رائج کی کریں اور سب سے پہلے خود اس پر عمل کریں اور پھر دنیا کی بہتری کیلئے آہستہ آہستہ اُسے لوگوں میں رائج کریں۔کئی باتیں بظا ہر نہایت چھوٹی نظر آتی ہیں مگر دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا کرتی ہیں۔پہلے لوگ انہیں سنتے ہیں تو ہنستے ہیں مگر بعد میں انہیں اقرار کرنا پڑتا ہے کہ واقع میں یہ تعلیم نہایت کی اعلیٰ درجہ کی ہے۔اسی وجہ سے میں کچھ عرصہ سے جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلا رہا ہوں کہ وہ اسلامی تمدن کے قوانین اپنے اندر جاری کریں تا دوسرے لوگ دیکھ کر اندازہ لگا سکیں کہ اسلامی تمدن کیسا با برکت اور آرام دہ ہے۔اس کے متعلق گزشتہ سال سے میں یہ کہتا چلا آ رہا ہوں کہ ہمیں اپنی تجارتوں میں ، اپنے لین دین کے معاملات میں اور اسی طرح اور تمدنی اور اقتصادی امور میں اسلامی تعلیم کو ملحوظ رکھنا چاہئے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بارہ میں ایسی ہدایات دی ہیں کہ جن پر اگر عمل کیا جائے تو دنیا میں حقیقی امن قائم ہو سکتا ہے۔بعض باتیں بظاہر معمولی نظر آتی ہیں مگر میں دیکھتا ہوں کہ اب دنیا کی حکومتیں بھی ان کی طرف توجہ کر رہی ہیں۔تھوڑے ہی دن ہوئے اخبارات میں ایک خبر پڑھ کر مجھے خوشی بھی ہوئی اور افسوس بھی۔خوشی تو اس لئے کہ وہ ایک اسلامی تعلیم ہے جس کا احیاء ہوا ہے اور افسوس اس لئے کہ مسلمانوں نے اس بات کو اسلامی تعلیم سے نہ سیکھا بلکہ صدیوں تک مصیبتیں اُٹھانے اور تکالیف برداشت کرنے کے بعد یورپ سے سیکھا حالانکہ وہ تعلیم اسلام میں موجود ہے اور اسی نے سب سے پہلے اسے دنیا کے سامنے پیش کیا۔وہ بات یہ ہے کہ ایک دو مہینے ہوئے ترکوں نے یہ قانون پاس کیا کی ہے کہ تمام اشیاء کا ایک ریٹ مقرر ہونا چاہئے تاکہ کوئی دکاندار سو دا مہنگا یا سستا فروخت نہ کر سکے بلکہ جب بھی کوئی گاہک کسی دکان پر جائے اُسے مقررہ قیمت پر چیز مل جائے۔اس ضمن میں ہر دکاندار کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی دکان پر تمام چیزوں کی ایک لسٹ بنا کر لٹکا دے اور ہر چیز کے آگے اس کا بھاؤ درج کرے تا تمام بازار میں چیز ایک قیمت پر ملے۔یہ نہ ہو کہ کسی سے زیادہ قیمت وصول کر لی جائے اور کسی سے کم۔اس کی وجہ انہوں نے یہی بتائی ہے کہ