خطبات محمود (جلد 19) — Page 303
خطبات محمود ٣٠٣ سال ۱۹۳۸ء سائبان موجود ہیں مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے دشمنوں کے پاس بھی تو تو ہیں اور ہوائی جہاز نہیں تھے۔پھر ان میں کوئی نظام نہیں تھا، اُس وقت سفر کی سہولتیں میسر نہیں تھی ، تار، ٹیلیفون اور وائرلیس نہیں تھا۔پھر اُن میں وہ فوجی نظام نہیں تھا جو آج ہے۔اُن کا مالی نظام مضبوط انہیں تھا اور اسی طرح کے اور بہت سے نقص اُن میں موجود تھے۔پس بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلمانوں کی حالت بہت کمزور تھی اور اس زمانہ میں ہماری حالت بظاہر اچھی نظر آتی ہے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ دشمن کی جس قدر اس وقت طاقت تھی اُس سے بہت زیادہ آج ہما را دشمن طاقتور ہے۔حقیقتا اگر غور کیا جائے اور اس بے بسی کو بھی کی دیکھا جائے کہ جماعت احمدیہ جس کے سپرد یہ عظیم الشان کام کیا گیا ہے وہ محکوم ہے جبکہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آزاد تھے ، تو ماننا پڑتا ہے کہ اس زمانہ کا کام اُس زمانہ سے کوئی کی کم مشکل نہیں بلکہ نسبت وہی قائم ہے جو پہلے تھی۔لیکن باوجود اس کے کہ اس زمانہ کا کام ویسا تج ہی ناممکن نظر آتا ہے جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نظر آتا تھا۔جس خدا نے اُس وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ میں تیری تعلیم کو تمام دنیا میں پھیلا دوں گا ، اُسی خدا نے آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کہ میں تجھے کامل غلبہ بخشوں گا اور تیرے تمام دشمنوں کو تیرے مقابلہ میں شکست دوں گا۔اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو کام ہوا تھا وہ انسانی کام تھا تو کہا جا سکتا ہے کہ اُس زمانہ میں اگر یہ کام ہو بھی گیا تھا تو آج اِس کا کوئی امکان نہیں کیونکہ آج انسانی طاقت بہت بڑھی ہوئی ہے لیکن اگر خدا نے وہ کام کیا تھا اور واقع میں اُسی نے کیا تھا تو جس خدا میں یہ طاقت تھی کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو زیر کر کے آپ کی تعلیم کو تمام کی دنیا میں پھیلا دے، اُسی خدا میں آج بھی یہ طاقت ہے کہ وہ ہمارے دشمنوں کو زیر کر کے احمدیت کی تعلیم اکناف عالم میں پھیلا دے اور دنیا کے تمام ادیان پر اسلامی تعلیم کی برتری اور فوقیت عملی رنگ میں ثابت کر دے۔پس اس غلبے کا امکان موجود ہے مگر موقع کی نزاکت اور اہمیت ایسی کی ہے کہ ہم میں سے ہر شخص کی توجہ اس کام کی طرف مبذول ہونی چاہئے۔اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں ہم میں سے کوئی شخص دیانتداری کے ساتھ احمدی نہیں کہلا سکتا جب تک وہ اُٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے سوتے اور جاگتے یہ مقصد اپنے سامنے نہیں رکھتا کہ اُس نے دنیا کے تمام تمدنوں کو مٹا کر