خطبات محمود (جلد 19) — Page 269
خطبات محمود ۲۶۹ سال ۱۹۳۸ء تب بھی میں چونکہ خدا تعالیٰ کے سامنے سب سے زیادہ ذمہ دار ہوں اس لئے میں خدا تعالیٰ سے کہہ دوں گا اے میرے رب ! میری اپنی جان حاضر ہے اور اسے تو جس جگہ اور جس طرح چاہے سلسلہ کی عزت کی حفاظت کیلئے قربان کرنے کو تیار ہوں۔اس کے علاوہ میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی طبیعتوں میں سے غصہ کو دور کرو اور مظلوم بنو۔کسی کے ساتھ خواہ وہ کتنا کمزور سے کمزور کیوں نہ ہوں ظلم نہ کرو۔اور یاد رکھو کہ کمزور کا مقابلہ کرنا بہادری نہیں۔ہمارا مطالبہ حکومت سے ہے ورنہ افراد کے لحاظ سے تم قادیان کو اتنا امن والا مقام بنادو کہ یہاں ذلیل سے ذلیل آدمی بھی اپنے آپ کو معزز ترین وجود سمجھے اور اپنے آپ کو ہر لحاظ سے محفوظ محسوس کرے۔کسی کی گالیوں سے غصہ میں نہ آؤ، کوئی خواہ تمہارا کتنا نقصان کر دے، خواہ تمہیں مارے مگر اسے برداشت کرو لیکن حکومت طاقتور ہے اس سے اس قسم کی کا سلوک برداشت نہ کرو۔شریف آدمی وہ ہے جو اپنے تابع کی بے انصافی کو تو برداشت کر لیتا ہے مگر جو غالب ہو اُس سے اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے۔پس میں جہاں جماعت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اپنے نفسوں کو قربانیوں کیلئے تیار کرو وہاں یہ بھی کہتا ہوں کہ یہ مت سمجھو کہ تم تھوڑے ہو کیونکہ جو خدا تعالیٰ کیلئے کھڑا ہو وہ اکیلا بھی بہت ہوتا ہے۔مجھے معلوم نہیں یہ واقعہ صحیح ہے یا نہیں مگر تاریخی لحاظ سے گو صحیح نہ ہو لیکن واقعات کے لحاظ سے ضرور صحیح ہے۔کہتے ہیں کہ نمرود بڑا بادشاہ تھا مگر اُس کی ناک میں مچھر گھس گیا اور اندر گھر بنالیا اور اس سے اُس کی موت واقع کی ہوگئی۔اس کے سر میں کھجلی ہوتی اور جوتیاں مارتے تھے تو آرام ہوتا تھا۔یہ صحیح ہو یا نہ ہو مگر کیا تم نہیں دیکھتے کہ کتنے پہلوانوں کو مچھر کاٹتا ہے اور وہ ملیریا میں مبتلا ہو کر مر جاتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ تو مچھروں سے بھی بڑے بڑوں کو نیچے گرا دیتا ہے۔جماعت کے دوستوں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ مخالف اقوام کی طرف سے ہر قسم کی باتیں سن لو اور برداشت کرو لیکن حکومت سے مطالبہ کرو کہ ہمارے ساتھ جو سلوک وہ کرتی ہے وہی ہمارے مخالفوں سے کرے اور اپنے افسروں کو ایسے احکام صادر کرنے سے رو کے جو محض حکومت جتانے کیلئے کئے جاتے ہیں اور جو انصاف کے بالکل خلاف ہوتے ہیں۔ورنہ ہم ایسی باتوں کا ازالہ ضرور کرا کر چھوڑیں گے ، خواہ عدالتوں کے ذریعہ سے کرائیں اور خواہ کی