خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 268

خطبات محمود ۲۶۸ سال ۱۹۳۸ ہیں لیکن اگر تھوڑوں کی حفاظت نہ کی جائے تو حکومتوں کا فائدہ ہی کیا ہے اور ان کی ضرورت کیا ہے۔حکومتیں تو قائم ہی اس لئے ہوتی ہیں کہ تھوڑوں کی حفاظت کریں۔بعض نادان افسر کہہ دیتے ہیں کہ تمہیں قادیان میں اکثریت حاصل ہے اس لئے ہم یہاں اقلیت کی حفاظت کرتے ہیں حالانکہ یہ صیح نہیں۔اکثریت یا اقلیت کیلئے کبھی ایک ہی گاؤں کو نہیں لیا جا تا بلکہ علاقہ کو دیکھا جاتا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ اگر اس تھا نہ کو لیا جائے تو ہماری اکثریت ہے یا اقلیت؟ تھانہ کی آبادی کی دولاکھ ہوگی جن میں احمدی صرف بارہ تیرہ ہزار ہوں گے اور یہ نہایت کمزور اقلیت ہے چہ جائیکہ اسے اکثریت ظاہر کیا جائے۔اکثریت یا اقلیت ہمیشہ علاقہ کے لحاظ سے ہوتی ہے گاؤں کی کیا ہستی ہوتی ہے کہ اس سے اقلیت یا اکثریت کا اندازہ کیا جائے۔مگر افسوس ہے کہ بعض افسر ہمارے ساتھ یہ کہہ کرنا انصافی کرتے ہیں کہ تم اکثریت میں ہو لیکن اب ہم اس بات کو برداشت نہیں کریں گے۔میں وہ شخص ہوں جس نے کم سے کم تمہیں سال تک حکومت سے تعاون کیا ہے اور اس کیلئے ہر قسم کی ذاتی اور خاندانی اور جماعتی قربانیاں کی ہیں اور اس لئے میں کب یہ بات پسند کر سکتا ہوں کہ خواہ مخواہ حکومت سے لڑائی چھڑ جائے لیکن اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی کہوں گا کہ جس حکومت کی نظر اتنی کو تاہ اور کان اتنے بہرے ہوں کہ وہ کسی کی سالہا سال کی قربانیوں کو محض کسی اکثریت کو خوش کرنے کیلئے قربان کر دے تو وہ بھی اس بات کی حقدار نہیں کہ اس سے اس رنگ میں تعاون کیا جائے جس رنگ میں میں پہلے کرتا چلا آیا ہوں۔تاہم چونکہ ہماری مذہبی تعلیم ہے کہ قانون شکنی نہ کرو اور قانونی حدود میں حکومت کے وفادار رہو ، ہم اس حد تک وفادار ر ہیں گے۔لیکن میں جماعت کے دوستوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے دلوں میں اس بات کا فیصلہ کرلیں کہ اگر سلسلہ کی تذلیل کا یہ سلسلہ جاری رہا اور حکام بالا نے بھی اسے روکنے کی طرف توجہ نہ کی تو وہ اسے بند کرانے کیلئے جس قسم کی قربانیوں کا ان سے مطالبہ ہوگا ان کیلئے تیار رہیں گے۔ہم پہلے ضلع کے حکام کو متوجہ کریں گے اور اگر وہ نہ مانے تو پھر حکام بالا کو توجہ دلائیں گے اور اگر انہوں نے بھی توجہ نہ کی تو قانون کے اندر رہتے ہوئے ہمیں جو ذرائع بھی اختیار کرنے پڑیں گے، کریں گے اور جو قربانیاں بھی ضروری ہوں گی اُن سے منہ نہ موڑیں گے۔میں ہر احمدی سے امید رکھتا ہوں کہ وہ اس سے دریغ نہ کرے گا لیکن اگر کوئی میرے ساتھ شامل نہ ہوتی۔