خطبات محمود (جلد 19) — Page 231
خطبات محمود ۲۳۱ سال ۱۹۳۸ء نہ ہونے سے یا اگر تھی تو معلوم نہ ہونے سے ان کی عزت کو کوئی نقصان پہنچا ہے؟ ان کی زندگی میں روم کے بادشاہ کو شاید ان کا علم بھی نہ ہو مگر آج روم کی ہی حکومت نہیں بلکہ ویسی ہی بیسیوں اور حکومتیں ان کی روحانی بادشاہت کے ماتحت ہیں۔اٹلی ، جرمنی، فرانس ، سپین ، آسٹریا، ہنگری، لینڈ، رومانیہ، بلغاریہ اور چیکوسلواکیہ سب حضرت عیسی علیہ السلام کی روحانی رعایا ہیں۔اُس زمانہ میں رومی سلطنت کا ایک چپڑاسی بھی آکر کہتا کہ چلئے آپ کو بلاتے ہیں تو آپ کی مجال نہ کی ہو سکتی تھی کہ انکار کریں۔اُس وقت آپ کے مخالف آپ کو دکھ دینے کیلئے مشہور کیا کرتے تھے کہ آپ حکومت کے دشمن ہیں اور خود بادشاہ بنا چاہتے ہیں۔جیسا کہ آجکل ہمارے مخالف ہمارے خلاف شور کرتے ہیں۔ایک دفعہ اس سلسلہ میں آپ سے سوال کیا گیا کہ کیا قیصر روم کو ٹیکس دینا کی جائز ہے؟ اس سوال سے غرض یہ تھی کہ اگر تو آپ کہیں گے کہ ٹیکس دینا جائز ہے تو یہودی کہہ سکیں گے کہ یہ شخص یہودیوں کا بادشاہ کس طرح ہو سکتا ہے جو روم کو ٹیکس دینا جائز قرار دیتا ہے اور اگر کہیں گے کہ ٹیکس مت دو تو حکومت کا باغی قرار پائیں گے۔آپ نے اس سوال کا جواب ایک کی اور سوال سے دیا کہ روم کے سپاہی آپ لوگوں سے کیا مانگتے ہیں؟ اس کے جواب میں سوال کرنے والوں نے کہا کہ روپیہ مانگتے ہیں۔اس پر آپ نے کہا کہ روپیہ پر کس کی تصویر ہے؟ سوال کرنے والوں نے کہا کہ روم کے بادشاہ کی۔اس پر آپ نے فرمایا کہ جو چیز قیصر کی ہے وہ اُسے دو اور جو خدا کی ہے وہ خدا کو۔کے اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تم سے فقط دین مانگتا ہوں ٹیکس بادشاہ کا حق ہے وہ اسے دو۔یہی ہم کہتے ہیں کہ جو چیز انگریز کی ہے وہ اسے دو۔انگریر ٹیکس مانگتا ہے جو اسے دینا چاہئے مگر ہم دل مانگتے ہیں۔انگریز دل نہیں مانگتا اور مانگ بھی نہیں سکتا۔جو تلوار روپیہ لیتی ہے وہ اس کے پاس ہے اور جو دل لیتی ہے وہ ہمارے پاس ہے۔پس میں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ حزب اللہ بنو پھر دیکھو کس طرح اللہ تعالیٰ کی نصرت تمہیں کامیاب کرتی ہے۔اب بھی تمہیں اس کی نصرت حاصل ہے مگر پھر خصوصی اور فردی نصرت حاصل ہو گی۔آجکل کی نصرت کی مثال تو ویسی ہی ہے جیسے کسی کے گھر کو آگ لگے تو لوگ اُس کا سامان اُٹھا اُٹھا کر باہر نکالتے ہیں، عزت تو اس کی ہوتی ہے مگر ساتھ ہی اس کے نوکر کا سامان بھی باہر اُٹھا لاتے ہیں۔محلہ کے لوگ بھی پہنچ جاتے ہیں، فائر بریگیڈ بھی ، پولیس بھی۔فرض کرو