خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 164

خطبات محمود ۱۶۴ سال ۱۹۳۸ء کی طرف سے ایک ٹریکٹ انگریزی میں شائع کرا کے جوں کو بھجوا دیا اور اسے مظلوم قرار دے کر ان کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی۔اس ٹریکٹ میں میرے حوالوں کو غلط طور پر کانٹ چھانٹ کر پیش کیا گیا ہے اور ظاہر کیا گیا ہے کہ گویا وہ لوگ بہت مظلوم ہیں اور میاں فخر الدین کو میں نے مروا دیا ہے۔یہ ٹریکٹ علاوہ دوسرے لوگوں کے بہت سے جوں کو بھی بھجوایا گیا اور اس طرح جوں کے خیالات پر اثر ڈالنے کی کوشش کی گئی۔مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس منصو بہ کو بھی نا کام کیا اور جوں کو سچ تک پہنچنے کی توفیق دی اور اُنہوں نے صاف کہہ دیا کہ خطبہ میں ہرگز جسمانی سزا کی طرف کسی کو ترغیب نہیں دلائی گئی بلکہ روحانی سزا کا ذکر ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ یہ خطبہ جس کو غلط رنگ میں اور بگاڑ کر اس طرح پیش کیا گیا ہے وہ کی فخر الدین صاحب کے جماعت سے اخراج سے بھی پہلے کا ہے۔یہ خطبہ ۲۷ رمئی کا ہے اور فخر الدین صاحب کا اخراج ۷ / جون کو ہوا ہے۔تو اللہ تعالیٰ یہ بھی میری صداقت کے نشان دکھا رہا ہے۔ان سے ایسے جھوٹ بلوا کر یہ بتا رہا ہے کہ جو لوگ اخبار میں شائع ھدہ تحریروں میں اس طرح بددیانتی سے کام لے رہے ہیں اور جھوٹ بول رہے ہیں وہ میری پرائیویٹ زندگی پر جو الزام لگاتے ہیں وہ کس حد تک قابل اعتبار ہو سکتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک دفعہ ایک یہودی آیا اور کہا کہ آپ نے میرا فلاں قرض دینا ہے۔اُس نے خیال کیا ہوگا کہ آپ کو یاد نہیں ہوگا اس لئے دوبارہ وصول کی کرلوں۔یا ممکن ہے وہ واقعی بھول گیا ہو۔اس طرح کئی لوگ مجھ سے دوبارہ وصول کر لیتے ہیں۔مگر جب آپ نے فرمایا کہ میں تو ادا کر چکا ہوں تو ایک صحابی نے کہا ہاں یا رَسُول اللہ ! میں گواہ ہوں کہ آپ نے ادا کر دیا ہوا ہے۔اور جب اُس صحابی نے پورے وثوق سے گواہی دی تو کی اُس یہودی نے بھی کہا کہ ہاں مجھے یاد آ گیا آپ ادا کر چکے ہیں۔اُس کے جانے کے بعد رسول کریم کی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس صحابی سے پوچھا کہ تم تو اُس وقت موجود نہیں تھے، تمہیں کس طرح معلوم ہے کہ میں نے وہ قرض ادا کر دیا ہوا ہے؟ تو اُس صحابی نے کہا یا رَسُول اللہ ! آپ کہتے ہیں آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی ہے حالانکہ اسے نہ ہم دیکھتے ہیں اور نہ کوئی اور۔اور کی ہم ایمان لے آتے ہیں اور امَنَّا وَ صَدَّقْنَا کہہ دیتے ہیں۔تو پھر اس معمولی سی بات کے