خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 163

خطبات محمود ۱۶۳ سال ۱۹۳۸ لے لیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے کوئی چار سو سال بعد جب بغداد پر تباہی آئی تو بغداد کے لوگ ایک بزرگ کے پاس گئے اور کہا کہ آپ دعا کریں اللہ تعالیٰ اس تباہی سے ہمیں بچالے۔تو انہوں نے کہا میں دعا کیا کروں۔میں تو جب بھی دعا کیلئے ہاتھ اُٹھاتا ہوں مجھے یہی آواز آتی ہے کہ يَا أَيُّهَا الْكُفَّارُ اقْتُلُوا الْفُجَّار یعنی اے کا فرو! ان فاجروں کو تباہ کر دو۔پس یا تو وہ یہ فیصلہ کریں کہ وہ بے شک جھوٹے اور فریبی ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ احمدیت کو تباہ کر کے کوئی نیا دین قائم کرنا چاہتا ہے۔لیکن اگر جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ احمدیت ایک صداقت ہے تو پھر اس کی اصلاح کیلئے کوئی جھوٹا کھڑا نہیں ہوسکتا۔میری یہ تحریریں جن میں اس طرح کتر بیونت سلا کی گئی ہے کوئی پوشیدہ باتیں نہیں ہیں بلکہ اخبار میں شائع ٹھدہ ہیں اور جو شخص ان شائع شدہ تحریروں میں بھی بد دیانتی سے کام لے سکتا ہے اس کی مثال اُس چور کی سی ہے جو لیمپ لے کر چوری کرنے جاتا ہے۔یہ باتیں بھی اللہ تعالیٰ کی کی طرف سے میری صداقت کا ایک نشان ہے۔باریک علمی نکتے ہر شخص نہیں سمجھ سکتا۔خلافت کا کی مسئلہ بالکل واضح ہے۔مگر ممکن ہے کوئی شخص اس کو بھی اچھی طرح نہ سمجھ سکتا ہو۔مگر کون ہے جو کچ ان باتوں کو بھی نہ سمجھ سکے اور یہ معلوم نہ کر سکے کہ میرے دشمن میرے مقابل پر کس طرح بد دیانتی ، جھوٹ اور فریب سے کام لیتے ہیں۔پھر اس مقدمہ میں ایک اور نشان بھی ہے۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قتل کے مقدمہ کے متعلق رؤیا ہوگئی تھی اسی طرح اس مقدمہ میں مجھے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رویا ہوئی جو بالکل صحیح ثابت ہوئی۔مجھے شیخ بشیر احمد صاحب نے فون پر اطلاع دی کہ اس درخواست کے فیصلہ کیلئے جو تاریخ مقررتھی وہ بدل گئی ہے۔پھر اس کے بعد دوبارہ اطلاع دی کہ دوسری تاریخ جو مقر رتھی وہ بھی بدل گئی ہے۔میں نے انہیں کہا کہ یہ تاریخوں کا بدلنا اچھا نہیں کیونکہ مجھے دکھایا گیا ہے کہ اس عرصہ میں جوں پر مخالف اثر ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔میں بہت حیران تھا کہ ہائیکورٹ کے جج تو بڑے پایہ کے لوگ ہوتے ہیں ان پر بیرونی اثر ڈالنا تو ناممکن ہے۔مگر اس کی کوشش کرنا بھی بظاہر ناممکن ہے۔پھر یہ رویا کس طرح پورا ہوگا۔مگر خدا تعالیٰ نے اس کے بھی سامان پیدا کر دئیے اور وہ اس طرح کہ ان لوگوں نے فخر الدین صاحب ملتانی کے لڑکے