خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 914 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 914

خطبات محمود ۹۱۴ سال ۱۹۳۸ ء کر کے آئیں تو ہم اس وقت تک ان کی امداد کرنے کے لئے بھی تیار ہیں جب تک کہ عارضی دقتیں ان کے راستہ سے دور نہ ہو جائیں اور یہ ہجرت کا معاملہ میری تحریک جدید کے مطالبات میں شامل ہے ۔ چنانچہ میں نے جماعت سے جو مطالبات کئے ہیں ان میں سے ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ لوگ یہاں رہائش کے لئے مکان بنائیں اور اسی جگہ رہائش اختیار کریں ۔ بعض لوگوں نے مجھ پر اعتراض کیا ہے کہ اِدھر تو آپ نے یہ کہا کہ قادیان میں رہائش اختیار کرو اور اُدھر ہجرت پر پابندیاں عائد کر دی ہیں ۔ میں نے اس خطبہ میں اسی اعتراض کا جواب دیا ہے اور بتایا ہے کہ میں ہجرت کا مخالف نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ زور کے ساتھ اس بات کی تحریک کرتا ہوں کہ قادیان میں اپنے مکان بناؤ اور یہیں کی رہائش اختیار کرو مگر میں کہتا ہوں محض خدا اور اس کے رسول کی رضا کے لئے آؤ ، نفسانی اغراض اور دُنیوی لالچوں کے لئے یہاں مت آؤ۔ اگر تم خدا تعالیٰ کے لئے یہاں آ کر مکان بناؤ گے تو تم کو بھی فائدہ ہوگا اور دین کو بھی فائدہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کی محبت کو ضائع نہیں کرتا اور نہ اس کی خاطر قربانی کرنے والے رڈ کئے جاتے ہیں ۔ ایسا شخص اگر جنگل میں بھی ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دے گا اور لوگ آپ ہی آپ اس کی طرف کھینچے چلے جائیں گے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہی دیکھو ، آپ ایک گوشہ میں پڑے ہوئے تھے اور آپ نہیں چاہتے تھے کہ خلوت میں سے نکل کر جلوت میں آئیں مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہام کیا اور کہا فَحَانَ أَنْ تُعَانَ وَتُعْرِفَ بَيْنَ النَّاسِ ہے کہ اے شخص اب وہ وقت آ گیا ہے کہ خدا تیری نصر نصرت رت کرے اور تیرے نام کو دنیا میں پھیلائے ۔ پس اب تو گوشے میں نہیں بیٹھ سکتا بلکہ اب تجھے نکلنا پڑے گا اور لوگوں کے سامنے ظاہر ہونا پڑے گا ۔ تو جو شخص اللہ تعالیٰ کا ہو جائے خدا تعالیٰ خود اس کا حافظ و ناصر ہو جا تا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے لئے ہجرت کرو اور یاد رکھو کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے ہجرت کرتا ہے اُسے کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا ۔ وہ قادیان میں رہے تب بھی اس کی ترقی ہوگی اور اگر وہ شیروں کی کچھار میں رہے تب بھی خدا اس کی حفاظت کرے گا ۔ ہاں یہ بالکل ممکن ہے کہ شیر اس کے جسم کو پھاڑ دیں مگر اس طرح پھاڑے جانا کوئی بڑی بات نہیں ۔ اس کا جسم بے شک پھاڑا جائے گا مگر اس کی روح اللہ تعالیٰ کے ابدی انعامات کی وارث ہو جائے گی ۔ پس ایسے شخص کے لئے اگر