خطبات محمود (جلد 19) — Page 913
خطبات محمود ۹۱۳ سال ۱۹۳۸ء آداب میں خالص خدا کے لئے عبادت کروں۔اگر دُنیا مجھے نہیں ملتی تو بے شک نہ ملے مجھے اس کی کی پرواہ نہیں۔میں اپنے رب کو راضی کرنے کی اب سچے دل سے کوشش کروں گا۔چنانچہ اس نے پیشاب وغیرہ سے فارغ ہو کر وضو کیا اور جنگل میں ایک طرف سجدہ میں گر کر اللہ تعالیٰ سے دُعا کرنی شروع کر دی کہ خدایا اب میں بندوں کی واہ واہ کی کبھی خواہش نہیں کروں گا۔میں مجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میں صرف تیری رضا کے لئے ہی عبادت کیا کروں گا۔پس تو مجھ سے راضی ہو جا۔اگر بندے مجھے بُرا بھلا کہتے ہیں تو بے شک کہیں مجھے ان کی پرواہ نہیں۔معلوم ہوتا ہے اس نے نہایت ہی اخلاص کے ساتھ یہ دُعا کی تھی کہ معانیت کے بدلتے ہی اس کے اعمال اور کی اس کی حرکات اور سکنات میں بھی تبدیلی آگئی اور تھوڑی دیر کے بعد جب وہ واپس آیا تو اس نے لوگوں میں یہ چر چاپایا کہ ہم نے اس شخص پر خواہ مخواہ اتنا عرصہ بدظنی کی ہے۔یہ آدمی تو واقع میں نیک اور خدا رسیدہ معلوم ہوتا ہے۔یہ باتیں سُن کر اس کے نفس میں بہت ہی شرمندگی کی پیدا ہوئی اور اس نے اپنے دل میں کہا کہ اگر میں خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے سات سال عبادت کی کرتا تو آج تک خدا تعالیٰ کے حضور میں مجھے کتنا قرب حاصل ہو چُکا ہوتا۔میں نے تو اتنے سال فضول ضائع کر دیئے۔تو خدا تعالیٰ کا دروازہ سب کے لئے کھلا ہے اور ہر شخص پر وہ رحم کرنے کے لئے تیار ہے بشرطیکہ کوئی شخص رحم کا طالب بن کر اس کے دربار میں حاضر ہو۔پس تم میں سے وہ لوگ جو دُنیا کے لئے یہاں ہجرت کر کے آئے ہیں اور جو یہاں بیٹھ کر محض روٹی کما رہے ہیں دین کا کوئی کام نہیں کر رہے۔میں ان سے کہتا ہوں کہ ان کے لئے بھی مایوس ہونے کی کی کوئی وجہ نہیں۔وہ اپنے دلوں کی اصلاح کر لیں اور سچی توبہ اللہ تعالیٰ کے حضور کریں تو آج سے ہی وہ حقیقی مہاجر بن سکتے ہیں بلکہ ممکن ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا ئیں اور روئیں تو خدا تعالیٰ کے رجسٹر میں وہ اسی دن سے مہاجر لکھے جائیں جس دن سے وہ قادیان میں آئے ہیں۔پس آج میں اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ ہجرت کے مسئلہ کی اہمیت کو پوری طرح سمجھاتی جائے اور ایسے ہی لوگوں کو ہجرت کے طور پر قادیان آنے کے لئے بھیجا جائے جو ہجرت کے اصول کے مطابق آنے کے لئے تیار ہوں اور جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں اگر ایسے لوگ ہجرت