خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 915 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 915

خطبات محمود ۹۱۵ سال ۱۹۳۸ء موت مقدر ہو تب بھی اللہ تعالیٰ اس کی اولاد کو یا اس کی اولاد کی اولاد کو اپنے دُنیوی انعامات سے محروم نہیں رکھے گا اور آخرت میں جو اسے انعامات ملیں گے وہ اس کے علاوہ ہیں۔پس آج میں تحریک جدید کے اس حصہ کو پھر دُہراتا ہوں اور کہتا ہوں کہ ہر کام میں عقل سے کام لو۔دیکھو ہماری شریعت نے نماز کا حکم دیا ہے مگر بعض دفعہ نماز پڑھنی بھی منع ہے۔ہماری شریعت نے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے مگر بعض دفعہ روزہ رکھنا بھی منع ہے۔اسی طرح میں کہتا ؟ ہوں تم بے شک ہجرت کرو بلکہ پہلے سے زیادہ زور کے ساتھ میں تحریک کرتا ہوں کہ تم ہجرت کر کے یہاں آؤ مگر میں کہتا ہوں وہ ہجرت کرو جو خدا اور اُس کے رسول کے لئے ہو ، وہ ہجرت کرو جس میں یہ عہد مصمم ہو کہ ہم دین کی خدمت کریں گے اور اپنی عمر میں سے ایک کافی حصہ خدمت خلق اور خدمتِ اسلام کے لئے خرچ کریں گے۔میرے پاس شکایت کی گئی ہے کہ جب بعض لوگوں سے یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں گاؤں میں جا کر بیٹھ رہو اور تبلیغ کرو تو وہ کہتے ہیں ہم وہاں نہیں جا سکتے ، ہمیں وہاں تکلیف ہوگی یا ہمارے کاروبار کو نقصان ہو گا۔حالانکہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جن صحابہ نے مدینہ میں ہجرتیں کی تھیں وہ سارے مدینہ میں نہیں رہتے تھے بلکہ اردگرد کے گاؤں میں بھی رہتے تھے۔حضرت عمر بھی مدینہ میں نہیں رہتے تھے بلکہ مدینہ سے قریب ایک گاؤں تھا جہاں وہ رہتے تھے مگر یہاں کے لوگ تو بھینی اور منگل کا نام سُن کر کانپ اُٹھتے ہیں۔حالانکہ اگر انسان خدا تعالیٰ کو روزی رساں سمجھے تو اس قسم کے وساوس اس کی کے پائے ثبات میں لغزش پیدا نہیں کر سکتے۔پس ان معمولی معمولی باتوں کی طرف مت دیکھو بلکہ جب بھی تمہیں کہا جائے کہ تم تبلیغ کے لئے باہر جاؤ تو فوراً نکل کھڑے ہو اور وہیں اپنا کام کرو اس میں تمہارا بھی فائدہ ہے، دین کا بھی فائدہ ہے اور لوگوں کا بھی فائدہ ہے۔(۳) اسی سلسلہ میں میں آج یہ بھی اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ وقف زندگی کے متعلق میں نے اپنی جماعت کے نوجوانوں سے جو یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو پیش کریں۔اس کے ماتحت