خطبات محمود (جلد 19) — Page 888
خطبات محمود ۸۸۸ سال ۱۹۳۸ء سلوک کرتا ہے۔دنیا اسے مارتی ہے ، گالیاں دیتی ہے، اسے دبانے کی کوشش کرتی ہے مگر وہ ہر دفعہ گرائے جانے کے بعد گیند کی طرح پھر اُبھرتا ہے۔ایسے مؤمنوں کو ہر قسم کی روکوں کے باوجود کی اللہ تعالیٰ بڑھاتا ہے اور یہی حقیقی جماعت ہوتی ہے جو ترقی کرتی ہے۔پس اپنے دلوں کو ایسا ہی بناؤ اور ایسی محبت سلسلہ کے لئے پیدا کرو پھر دیکھو تمہیں اللہ تعالیٰ کس طرح بڑھاتا ہے۔جولوگ خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں ان کو تو مانگنا بھی نہیں پڑتا بعض وقت وہ ناز کے انداز میں کہتے ہیں کہ ہم نہیں مانگیں گے اور اللہ تعالیٰ خود بخود ان کی ضروریات کو پورا کر دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود السلام سے ہی میں نے یہ واقعہ بھی سنا ہے کہ ایک بزرگ تھے ایک دفعہ ان پر ایسی حالت آئی کہ وہ سخت مصیبت میں تھے کسی نے ان سے کہا کہ آپ دعا کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر میرا رب مجھے نہیں دینا چاہتا تو میرا دعا کرنا گستاخی ہے جب اس کی مرضی نہیں تو کی میں کیوں مانگوں۔اس صورت میں تو میں یہی کہوں گا کہ مجھے نہ ملے اور اگر وہ دینا چاہتا ہے تو میرا مانگنا بے صبری ہے۔یہ مطلب نہیں کہ وہ دعا کرتے ہی نہیں بلکہ کبھی کبھی کامل مؤمنوں پر ایسی کیفیات آتی ہیں اور وہ کہتے ہیں اچھا ہم مانگیں گے نہیں اللہ تعالیٰ خود ہماری ضرورت کو پورا کرے گا مگر یہ مقام یونہی حاصل نہیں ہوتا۔یہ مت خیال کرو کہ تم یونہی بیٹھے رہو، اپنے قلوب میں محبت پیدا نہ کرو، نمازوں میں خشوع خضوع پیدا نہ کرو، صدقہ و خیرات اور چندوں میں غفلت کرو، جھوٹ اور فریب سے کام لیتے رہو اور پھر بھی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل کے وارث ہو جاؤ یہ بھی نہیں ہوسکتا۔ابھی لاہور میں مجھے ایک بوہرہ صاحب ملنے آئے۔انہوں نے کہا کہ میں نماز بھی پڑھتا ہوں، روزے بھی رکھتا ہوں ، خدا تعالیٰ سے ملنے کی خواہش بھی ہے مگر خدا تعالیٰ ملتا نہیں۔میں نے کہا کہ خواہش کا تو پتہ نہیں یہ تو خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے مگر یہ بات ضرور ہے کہ دودھ یا شہد کے لئے پیالہ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اگر پیالہ نہ ہو تو اسے رکھا کہاں جائے گا لیکن دودھ اور کی شہد کے بغیر پیالہ کی بھی کوئی قیمت نہیں دونوں چیزیں ضروری ہیں آپ کے پاس پیالہ تو بے شک ہے مگر دودھ یا شہر نہیں اور ظاہر ہے کہ خالی پیالہ کو کوئی کیا کرے گا ، دونوں چیز میں ضروری ہیں۔کئی دل درست نہیں ہوتے اس لئے خدا تعالیٰ انہیں نہیں ملتا، کئی ایک جھوٹی قسم کی محبت تو رکھتے ہیں