خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 889 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 889

خطبات محمود ۸۸۹ سال ۱۹۳۸ء لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے ہوئے ظاہری احکام کی پیروی نہیں کرتے ، انہیں بھی خدا تعالیٰ کی نہیں ملتا۔پس خالی نماز ، روزہ کافی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کو ملنے کے لئے عاشقانہ قلبی کیفیت کی ضرورت ہے اور ایسے دل کی ضرورت ہوتی جو تمام عذروں اور بہانوں سے خالی ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف مُجھک جائے اور اگر کوئی کہے کہ ہمارے دل میں اخلاص موجود ہے تو ظاہری احکام کی کیا ضرورت ہے تو یہ بھی درست نہیں ظاہری احکام پر عمل بھی ضروری چیز ہے۔میں نے کئی دفعہ پہلے بھی سنایا ہے کہ قاضی امیرحسین صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مخلص صحابی تھے احمدی ہونے سے قبل وہ کٹر وہابی تھے اور اس وجہ سے کئی باتیں ظاہری آداب کی وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جب حضور باہر تشریف لاتے تو دوست کھڑے ہو جاتے تھے۔قاضی صاحب مرحوم کا خیال تھا کہ یہ جائزہ نہیں بلکہ شرک ہے اور اس بارہ میں ہمیشہ بحث کیا کرتے تھے کہ اگر آج ہم میں ایسی باتیں موجود ہیں تو آئندہ کیا ہوگا۔وہ میرے استاد تھے میری خلافت کا زمانہ آیا تو ایک دفعہ میں باہر آیا تو وہ معاً کھڑے ہو گئے میں نے کہا قاضی صاحب یہ تو آپ کے نزدیک شرک ہے اس پر وہ ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ خیال تو میرا یہی ہے مگر کیا کروں رُکا نہیں جاتا، اس وقت بغیر خیال کے کھڑا ہو جاتا ہوں۔میں نے کہا بس یہی جواب ہے آپ کے تمام اعتراضات کا۔جہاں بناوٹ سے کوئی کھڑا ہو تو یہ بے شک شرک ہے مگر جب آدمی بے تاب ہو کر کھڑا ہو جائے تو یہ شرک نہیں۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ بعض امور ایسے ہیں جنہیں تکلف اور بناوٹ شرک بنا دیتے ہیں، فرماتے تھے اپنے ایک بھائی کی وفات پر حضرت عائشہ نے بے اختیار چیخ ماری اور منہ پر ہاتھ مار لئے۔کسی نے ان سے دریافت کیا کہ کیا یہ جائز ہے؟ آپ نے فرمایا بے اختیاری میں ایسا ہو گیا۔میں نے جان کر نہیں کیا۔تو قاضی صاحب کی یہ بات مجھے ہمیشہ یا درہتی ہے کہ یا تو وہ بحث کیا کرتے تھے اور یا خود کھڑے ہو گئے۔یہ قلبی حالت ہی اصل حالت ہے جو بات بے ساختگی میں آپ ہی آپ ہو جائے وہی اصل نیکی ہے، اس سے نیچے جو نیکی ہے وہ نیکی تو ہے مگر سہارے کی محتاج ہے۔اصل نیکی وہی ہے جو آپ ہی آپ ہوا اور ارادہ سے بھی پہلے کام ہو جائے۔بچوں کو دیکھو وہ سوتے سوتے یوں منہ مارتے ہیں کہ گویا دودھ