خطبات محمود (جلد 19) — Page 887
خطبات محمود ۸۸۷ سال ۱۹۳۸ نے سنایا کہ ایک دفعہ وہ ایک دکان پر بیٹھے تھے ، اس زمانہ میں کپورتھلہ میں ریل نہ جاتی تھی شاید پھگواڑہ سے تانگوں پر لوگ جاتے تھے ہمنشی صاحب مرحوم ایک دکان پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شدید دشمن سلسلہ جو ہمیشہ احمدیوں کے ساتھ بُرائی کیا کرتا تھا آیا اور ان سے کہا کہ تمہارے مرزا صاحب (علیہ الصلوۃ والسلام ) آئے ہیں اور اڈے پر کھڑے ہیں۔منشی صاحب اس وقت دکان پر بیٹھے آرام سے باتیں کر رہے تھے، پگڑی اور جوتی اُتاری ہوئی تھی ، جب اس دشمن نے یہ خبر سنائی تو اسی طرح اٹھ کر دوڑ پڑے۔تھوڑی دور گئے تو خیال آیا کہ یہ شخص ہمیشہ ہمیں چڑایا کرتا ہے یہ بھی اس نے تمسخر نہ کیا ہو اس لئے پندرہ ہیں قدم دوڑنے کے بعد ٹھہر گئے اور اسے بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا کہ تو بڑا خبیث ہے ہمیشہ ستاتا ہے۔یہ بھی تو نے جھوٹ بولا ہوگا ، ورنہ ہماری قسمت ایسی کہاں کہ حضور تشریف لائیں مگر اس نے کہا کہ نہیں میں جھوٹ نہیں بولتا۔میں انہیں اکوں کے اڈے پر کھڑا چھوڑ کر آیا ہوں یہ پھر دوڑ پڑے مگر پھر پندرہ ہیں قدم دوڑ کر کی کھڑے ہو گئے اور پھر اسے بُرا بھلا کہنے لگے اور آخر میں کہا کہ ہماری قسمت ایسی کہاں کہ حضور کی تشریف لائیں اور اسی طرح تین چار مرتبہ کیا۔تھوڑی دور بھاگتے اور پھر کھڑے ہو کر اسے کو سنے لگتے کہ اتنے میں سامنے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لاتے ہوئے دکھائی دیئے۔منشی صاحب مرحوم شاید مجسٹریٹ یا سیشن حج کی پیشی میں تھے۔مہینہ میں ایک بار ضرور قادیان آجاتے تھے اور چونکہ ایک چھٹی سے فائدہ نہ اٹھا سکتے تھے جب تک ساتھ ہفتہ کا کچھ ک وقت نہ ملے اس لئے جس دن ان کے قادیان آنے کا موقع ہوتا ان کا افسر دفتر والوں سے کہہ دیتا کہ آج کام جلدی ختم ہونا چاہئے کیونکہ منشی جی نے قادیان جانا ہے اگر وہ نہ جاسکے تو ان کے دل سے ایسی آہ نکلے گی کہ میں برباد ہو جاؤں گا اور اس طرح ہمیشہ ان کو ٹھیک وقت پر فارغ کر دیتا۔افسر گو ہندو تھا مگر آپ کی نیکی ، تقویٰ اور قبولیت دعا کا اس پر ایسا اثر تھا کہ وہ آپ ہی آپ انکے لئے قادیان آنے کا وقت نکال دیتا اور کہتا کہ اگر یہ قادیان نہ جا سکے تو ان کے دل سے ایسی آہ نکلے گی کہ میں نہیں بچ سکوں گا۔تو انسان جیسا اللہ تعالیٰ سے معاملہ کرتا ہے ویسا ہی وہ اس سے کرتا ہے۔جس جس رنگ میں انسان اپنے دل کو اس کے لئے پگھلاتا ہے اسی رنگ میں اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ