خطبات محمود (جلد 19) — Page 872
خطبات محمود ۸۷۲ سال ۱۹۳۸ء سادہ لباس ہوا کرتا تھا کہ اس کی کوئی حد نہیں۔مگر باوجود اس کے بڑے سے بڑا آدمی آپ کی عزت کی کرنے پر مجبور ہوتا تھا۔اسی طرح مجھے دنیوی لحاظ سے کونسی دولت حاصل ہے مگر دنیا میں کون ہے جو مجھے ذلیل سمجھ سکے۔کسی علم کا ماہر میرے سامنے آ جائے خدا تعالیٰ کے فضل سے اُسے شکست ہی کھانی پڑتی ہے تو عزت کے مختلف موجبات ہوا کرتے ہیں کبھی دولت عزت کا موجب ہوتی ہے اور کبھی علم عزت کا موجب ہوتا ہے اور کبھی عرفان عزت کا موجب ہوتا ہے۔دولت ہمارے پاس نہیں مگر علم روحانی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے پاس بہت ہے۔اگر ہماے پاس امراء آتے ہیں تو اس لئے نہیں کہ وہ ہم سے کسی جائیداد کے طالب ہوتے ہیں بلکہ اس لئے کہ روحانی فائدہ حاصل کریں۔اگر نواب آتے ہیں تو وہ بھی اسی لئے اور یہ خزانہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے پاس بہت ہے۔اسی طرح اگر کوئی عالم ہمارے پاس آئے گا تو اس لئے نہیں کہ ہم اس کا کوئی وظیفہ مقرر کر دیں بلکہ وہ کوئی علمی فائدہ ہم سے اُٹھانا چاہے گا یا اپنے علمی خیالات کے متعلق ہم سے تبادلہ خیالات کرنا چاہے گا اور یہ ذخیرہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت دیا ہوا ہے اس کے مقابلہ میں ہم کسی کے دروازے پر جاتے ہی نہیں۔پس اس بات کا کوئی سوال ہی نہیں کہ وہ کی کیا سمجھے گا۔وہ جو جی میں آئے سمجھے مگر جو ہمارے پاس آئے گا وہ وہی چیز لینے آئے گا جو علمی رنگ میں ہمارے پاس ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے پاس تھوڑی نہیں بلکہ بہت کافی ہے اسی لئے صوفیاء نے کہا ہے سالکین کو امراء کے دروازوں پر نہیں جانا چاہیے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں بِئْسَ الْفَقِيرُ عَلَى بَابِ الْاَمِيْرِ وہ فقیر جو کسی امیر کے دروازے پر جاتا ہے وہ بہت ہی ذلیل ہوتا ہے۔اسے کس نے کہا تھا کہ وہ اپنا گھر چھوڑے اور دوسرے کے دروازے پر جا کر بھیک مانگے۔پس اگر یہ دوسرے کے دروازے پر جاتا نہیں اور خود اس کے پاس دولت نہیں تو جو شخص اس کے پاس آئے گا روحانی علم سیکھنے ہی آئے گا اور جب وہ علم سیکھنے کے لئے آئے گا تو لازماً عزت کرنے پر بھی مجبور ہوگا۔کہتے ہیں ایک فلسفی غالباً دیو جانس اس کا نام تھا۔سکندر نے اس کی شہرت سنی تو اس نے اپنے بعض ساتھیوں سے کہا چلو دیو جانس کی چل کر زیارت کریں۔لوگوں نے کہا وہ سخت مزاج آدمی ہے آپ کی کوئی ہتک کر بیٹھے گا آپ اس کے پاس نہ جائیں۔وہ کہنے لگا کیا حرج ہے۔