خطبات محمود (جلد 19) — Page 873
خطبات محمود ۸۷۳ سال ۱۹۳۸ء ہم نے اس سے اپنی عزت کروانے تھوڑا جانا ہے ہم تو اس سے کچھ سیکھنا چاہتے ہیں چنا نچہ سکندر وہاں گیا وہ اپنے مکان کے صحن میں لیٹا ہوا تھا دیو جانس دراصل ان لوگوں میں سے تھا جو دنیا کو بالکل چھوڑ کر الگ ہو جاتے ہیں جیسے سادھو ہوتے ہیں۔پس وہ بھی ایک سادھو تھا اسلامی صوفیوں کی طرح نہیں تھا۔سکندر اس کے پاس کھڑا رہا مگر دیو جانس نے اس کی طرف منہ پھیر کر بھی نہ دیکھا۔تھوڑی دیر کھڑا رہنے کے بعد سکندر اسے کہنے لگا کوئی میرے لائق خدمت۔دیو جانس اُس وقت دھوپ سینک رہا تھا وہ کہنے لگا میں دھوپ سینک رہا تھا آپ نے آ کر دھوپ روک لی ہے۔بس آپ کے لئے اتنی خدمت ہی کافی ہے کہ سامنے سے ہٹ جائیے اور مجھے دھوپ سینکنے دیجئے۔سکندر اس کی اس بات کو سن کر حیران ہو گیا اور خاموشی سے واپس چلا آیا۔اب دیکھو اس فلسفی نے دنیا سے چونکہ اپنی کوئی غرض نہیں رکھی تھی اس لئے سکندر جیسا بادشاہ بھی اس کے پاس جانے اور اس کی عزت کرنے پر مجبور ہو گیا۔تو ذلیل وہی ہوتا ہے جس کے دل میں کچھ نہ کچھ دنیا رہ جاتی ہے اور چونکہ اس کے دل میں دنیا کی محبت ہوتی ہے وہ محبت اسے ذلیل کر دیتی ہے۔اگر یہ دنیا کی محبت اپنے دل سے بالکل نکال دے اور اس کے تن پر کپڑا بھی نہ ہو تو پھر بھی کون ہے جو اسے ذلیل سمجھ سکے۔پس یہ مت خیال کرو کہ دنیوی دولت کے نہ ہونے کی وجہ سے تم ذلیل ہو جاؤ گے۔ذلیل وہی ہوتا ہے جو آدھا خدا کا ہوتا ہے اور آدھا شیطان کا اور آدھا تیتر آدھا بٹیر خدا تعالیٰ کو پسند نہیں ہوتا۔یہ ادھر خدا تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے اور اُدھر بندوں کے آگے اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے کہ مجھ پر رحم کرو۔مگر وہ جو دنیا کی محبت اپنے دل سے بالکل نکال دیتا ہے اور کہتا ہے اگر مجھے بادشاہت ملی تو میں بادشاہت لے لوں گا اور اگر فقیری ملی تو فقیری قبول کرلوں گا۔اگر تخت ملا تو تخت پر بیٹھ جاؤں گا اور اگر پھانسی کا تختہ ملا تو اس پھانسی کے تختہ پر چڑھ جاؤں گا۔ایسے شخص کو کوئی نہیں جو ذلیل سمجھ سکے۔یہ خود کسی کے پاس اپنی کوئی تج غرض لے کر جائے گا نہیں اور جو اس کے پاس آئے گا وہ اس سے کوئی علمی فائدہ حاصل کرنے کے لئے ہی آئے گا اور اگر یہ سچا مومن ہے تو یہ خزانہ اس کے پاس اس کثرت سے ہوگا کہ باوجود خرچ کرنے کے ختم ہونے میں نہیں آئے گا۔پس دین کی خدمت اور خدا تعالیٰ کی محبت میں ہر قسم کی عزت ہے بشرطیکہ دنیا کا رُعب دل سے مٹ جائے اور خدا تعالیٰ کا رُعب دل پر