خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 871 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 871

خطبات محمود ۸۷۱ سال ۱۹۳۸ء اور انتخاب کے لئے تو اس سے بہت زیادہ تعداد کی ضرورت ہے۔پس دوست اپنے آپ کو وقف کریں مگر یہ ضروری ہوگا کہ وہ بلا شرط اپنی زندگی وقف کریں۔جو شخص کسی شرط کے ساتھ اپنے آپ کو وقف کرتا ہے اس کا وقف بالکل فضول ہے۔یہ ساری عمر کا وقف ہوگا اور ان کا یہ اختیار نہیں ہوگا کہ وہ پیچھے ہیں۔ہاں ہمیں یہ اختیار ہر وقت حاصل رہے گا کہ ہم چاہیں تو انہیں شروع میں ہی رڈ کر دیں اور چاہیں تو کام کے دوران میں ان کو فارغ کر دیں۔ہم ایسے نوجوانوں کو پہلے دین کی تعلیم دلائیں گے اور صحیح اسلامی تمدن انہیں بتائیں گے اس کے بعد انہیں د نیوی تعلیم دلائیں گے اور پھر ہم ان سے یہ امید رکھیں گے کہ وہ اپنی زندگی اسلام اور احمدیت کی اشاعت بنی نوع انسان کی ہمدردی اور سلسلہ احمدیہ کی ترقی کے لئے صرف کر دیں ہمیں ایسے نوجوان نہیں چاہئیں جو حکومت کے طالب ہوں بلکہ ہمیں وہ نو جوان چاہئیں جو بچے طور پر غرباء کی خدمت اور اپنے سلسلہ کی خدمت کرنے کے لئے تیار ہوں۔میں ان واقفین کے ذریعہ وہ جماعت تیار نہیں کرنا چاہتا جو افسروں کی جماعت ہو بلکہ وہ جماعت تیار کرنا چاہتا ہوں جس کے ہر فرد کو یہ احساس ہو کہ میں نے جماعت احمدیہ کی خصوصاً اور بنی نوع انسان کی عموماً خدمت کرنی کی ہے۔جب تک اس رنگ میں کام کرنے والے ہمیں نہیں ملیں گے اس وقت تک وہ تمدن قائم نہیں ہوسکتا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ میں قائم کیا تھا اور جس کے قائم کرنے کی کی آپ نے تعلیم دی ہے۔ہاں یہ یاد رکھو کہ وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے لئے ذلت اختیار کرتا ہے وہ بہت زیادہ عزت حاصل کرتا ہے۔کوئی تم میں سے یہ خیال نہ کرے کہ وہ خدا تعالیٰ کے دین کے لئے اپنے آپ کو وقف کر کے اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو لوگوں کی نگاہ میں ذلیل کی کرلے گا۔ذلیل وہی ہوتا ہے جس کے دل میں دوغلی حکومت ہوتی ہے۔آدھی خدا کی اور آدھی شیطان کی۔ایسا شخص کبھی ذلت بھی دیکھ لیتا ہے مگر وہ جس کے دل پر خالص خدا تعالیٰ کی حکومت ہو وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا کئی ہیں جو کہتے ہیں کہ غرباء کی کوئی قدر نہیں۔بے شک دنیا میں غرباء کی کی کوئی قدر نہیں مگر وہ جو خالص خدا تعالیٰ کے لئے غریب ہو اس کی پھر بھی عزت ہوتی ہے مگر وہ جو دوغلی چال چلے وہ اگر کسی وقت عزت پالیتا ہے تو دوسرے وقت ذلیل بھی ہو جاتا ہے۔آخر خود ہی غور کر وحضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کون سے امیر تھے۔حضرت خلیفہ اول کا اتنا