خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 820 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 820

خطبات محمود ۸۲۰ سال ۱۹۳۸ء انہیں اچھا رسوخ حاصل ہے اگر وہ وکالت کرتے تو سو ڈیڑھ سوروپیہ ضرور کما لیتے۔بلکہ ہوشیار آدمی تو آجکل کے گرے ہوئے زمانہ میں بھی دواڑھائی سور و پیہ کما لیتا ہے لیکن انہوں نے اپنے آپ کو وقف کیا اور قلیل گزارے پر ہی وقف کیا اور میں تو اس قسم کے وقف کو بغیر روپیہ کے کام کرنا ہی قرار دیتا ہوں کیونکہ جو کچھ ہماری طرف سے دیا جاتا ہے وہ نہ دیئے جانے کے برابر ہے۔اسی طرح اور کئی گریجوایٹ ہیں جو اپنی ذہانت کی وجہ سے اگر باہر کہیں کام کرتے تو کی بہت زیادہ کما لیتے مگر ان سب نے خوشی اور بشاشت کے ساتھ اپنی زندگی وقف کی ہے۔پس گو تحریک جدید کے واقفین ایک قلیل گزارہ لے رہے ہیں مگر عقلاً انہیں بغیر گزارہ کے ہی کام کی کرنے والے سمجھنا چاہئے کیونکہ ان کے گزارے انکی لیاقتوں اور ضرورتوں سے بہت کم ہیں۔مگر جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ اگر بغیر گزارہ کے کام کرنے والے آدمی بھی ہمیں ملیں تو بھی اس کام کیلئے جو ان سے لیا جانا ہے سرمایہ کی ضرورت ہے۔کچھ ان کے قلیل گزارہ کیلئے اور کچھ غیر ممالک میں تبلیغ اسلام اور لٹریچر وغیرہ کی اشاعت کیلئے۔اگر ہماری جماعت کے آدمی کتابیں نہیں لکھتے یا اگر لکھتے ہیں تو شائع نہیں ہوتیں تو محض اس لئے کہ روپیہ نہیں ہوتا۔پس میرا منشاء یہ ہے کہ جہاں نو جوان بغیر روپیہ کے کام کرنے والے ہوں وہاں روز مرہ کے کاموں کیلئے روپیہ کا ایک ریز روفنڈ جائیداد کی صورت میں ہوتا۔اگر کسی وقت جماعت سے چندہ نہ ملے یا چندہ لیا نہ جا سکے تو تبلیغ کے کام میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو اور مستقل آمد ایسی ہو جس سے تمام کام بخوبی چلتا چلا جائے۔میں نے آج سے کچھ سال پہلے پچیس لاکھ ریزرو فنڈ کی تحریک کی تھی مگر وہ تو ایسا خواب رہا جو تشنہ تعبیر ہی رہا مگر اللہ تعالیٰ نے تحریک جدید کے ذریعہ اب پھر ایسے ریزروفنڈ کے جمع کرنے کا موقع بہم پہنچایا ہے اور ایسی جائیدادوں پر یہ روپیہ لگایا جا چکا ہے اور لگایا جا رہا ہے جس کی مستقل آمد پچیس تیس ہزار روپیہ سالا نہ ہو سکتی ہے تا تبلیغ کے کام کو بجٹ کی کمی کی وجہ سے کوئی نقصان نہ پہنچے۔اگر ہم کو واقفین رکھیں جو میرا مقصود ہے اور جن کو میں دوسرے دور میں تیار کرنا چاہتا ہوں اوران میں سے ہر ایک کے اخراجات کی اوسط پچاس روپیہ ماہوار رکھیں تو پانچ ہزار روپیہ ماہوار۔