خطبات محمود (جلد 19) — Page 819
خطبات محمود ۸۱۹ سال ۱۹۳۸ء حالانکہ کام کو مفید بنانے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ سائز کا بجٹ تنخواہوں سے کئی گنا زیادہ ہو۔شاید یہ مجبوری تھی لیکن اس غلطی سے تحریک جدید کے کام میں اجتناب ضروری ہے اور میرا ارادہ ہے کہ تحریک جدید کو اس رنگ میں چلایا جائے کہ اس کے سائز کا بجٹ زیادہ ہو اور کارکنان کے گزارہ کا بجٹ کم ہو۔میرا اپنا اندازہ یہ ہے کہ سائز کا بجٹ کئی گنے زیادہ ہونا چاہئے ، کم از کم تین گنا ضرور ہونا چاہئے۔یعنی اگر سوروپے پاس ہوں تو ان میں سے بچھپیں روپے آدمیوں پر خرچ ہونے چاہئیں اور ۷۵ روپے اشاعت لٹریچر اور کرایوں وغیرہ پر۔اگر اس طریق کوملحوظ نہ رکھا جائے تو کئی قسم کی قباحتیں پیدا ہوسکتی ہیں۔مثلاً اگر لٹریچر موجود نہیں ، کرایہ کیلئے کوئی رقم پاس نہیں، اشتہارات چھپوانے کیلئے کوئی روپیہ پاس نہیں کہیں دوا خانے وغیرہ کھولنے کیلئے مالی گنجائش نہیں تو صرف آدمیوں کو ہم نے کیا کرنا ہے۔وہ تو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں گے اور جو کام ہے وہ رُکا ر ہے گا۔پس ضروری ہے کہ جو خرچ آدمیوں پر ہواس سے کئی گنے زیادہ اشاعت وغیرہ کے اخراجات کیلئے روپیہ ہو۔مثلاً اشتہارات چھپوانے کیلئے لٹریچر کی اشاعت کیلئے ، دوا خانے کھولنے کیلئے آمد ورفت کے کرایوں کیلئے ، مدرسوں کے اجراء کیلئے ، غریب بچوں کو کتابیں مہیا کر کے دینے کیلئے اور اسی طرح کے اور بہت سے کاموں کیلئے۔فرض کرو ہم کسی جگہ مدرسہ کھولتے ہیں وہاں تمام لڑکے غریب ہیں۔اب سکول چلانے کیلئے ضروری ہوگا کہ بچوں کو کتب اور دوسرا سامان بھی دیا جائے۔ورنہ خالی مدرس بیٹھا ہوا وہاں کیا کرسکتا ہے۔پس میرا اندازہ یہ ہے کہ اگر آدمیوں کی تنخواہوں پر ۲۵ روپے خرچ ہوا کریں تو سائز کیلئے ۷۵ روپے ہونے چاہئیں اور یہ کم سے کم اندازہ ہے اور میری کوشش ہے کہ اسی اصل پر تحریک جدید کے کام کو منظم کیا جائے۔پس اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ نو جوان جو بغیر روپیہ کے کام کرنے کو تیار ہوں وہ اپنی زندگیاں وقف کریں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے بعض نوجوان ہمیں ایسی ہی روح رکھنے والے دیئے ہوئے ہیں۔چنانچہ ان واقفین زندگی میں کی ایک وکیل ہیں، ان کے والد کئی مربعوں کے مالک ہیں اور وہ اپنے علاقہ کے رئیس اور مرکزی اسمبلی کے ووٹروں میں سے ہیں، وہ شادی شدہ ہیں مگر ہم انہیں میں روپے ہی دیتے ہیں اور وہ خوشی سے اسے قبول کرتے ہیں حالانکہ زمیندار ہونے کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ اپنے علاقہ میں