خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 821 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 821

خطبات محمود ۸۲۱ سال ۱۹۳۸ - اور ساٹھ ہزار روپیہ سالانہ بنتا ہے مگر یہ عملہ کا خرچ ہے اور میں بتا چکا ہوں کہ سائز کے اخراجات کم از کم تین گنے زیادہ ہونے چاہئیں جو لٹریچر کی مفت تقسیم یا دواؤں کی مفت تقسیم یا سفر خرچ کی وغیرہ پر خرچ ہونا چاہئے۔اس لحاظ سے دو لاکھ چالیس ہزار روپیہ بنتا ہے جس کی سالانہ ہمیں ضرورت ہوگی گوسر دست یہ ایک واہمہ اور خیال ہے مگر جس رنگ میں تحریک جدید کے سرمایہ سے مستقل جائیدادیں تیار ہو رہی ہیں اس سے میں چالیس ہزار روپیہ سالانہ تک آمد ہو سکتی ہے بلکہ انشاء اللہ اس سے بھی زیادہ اور چونکہ اگر ۲۴ نو جوان ہوں تو ان کے لحاظ سے ساٹھ ہزار روپیہ کا سالانہ بجٹ بن جاتا ہے اس لئے ۲۴ نو جوانوں کے اخراجات کا بجٹ قریباً قریباً اس جائیداد سے پورا ہو سکتا ہے اور چونکہ دور ثانی میں ابھی چھ سال باقی ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہماری جماعت کوشش کرے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے آسانی کے ساتھ ایسی جائیدادیں پیدا کی جاسکتی ہیں جن سے تبلیغ کا کام بسہولت ہوتا رہے اور اس کیلئے بعد میں کسی خاص جد و جہد کی کی ضرورت نہ رہے۔مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ جماعت اپنی قربانی کو اس اعلی معیار پر قائم رکھے جو گزشتہ سالوں میں اس نے قائم کیا تھا بلکہ کوشش کرے کہ پہلے معیار سے بھی وہ آگے بڑھ جائے۔دنیا میں لوگ کنوئیں کھدواتے ہیں ، سرا ئیں بنواتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ان کا نام باقی رہے۔وہ بالکل بے دین ہوتے ہیں مگر ان کے دل میں یہ جذ بہ ہوتا ہے کہ ہمارا کی نام کسی طرح باقی رہے لیکن کنوؤں اور سراؤں کی کیا حیثیت ہوتی ہے پچاس، ساٹھ یا سوسال کے بعد ویران اور غیر آباد ہو جاتے ہیں، لیکن اس کے مقابلہ میں تحریک جدید کا دور ثانی مستقل صدقے کا کام ہے اور جو لوگ اس میں حصہ لیں گے وہ اس تبلیغ دین کے ذریعہ جو ، ان کے روپیہ سے ہوتی رہے گی اپنی موت کے ہزاروں سال بعد بھی ثواب حاصل کرتے چلے جائیں گے۔دنیا میں حالات بدلتے رہتے ہیں اور عام طور پر جو وقف ہوتے ہیں وہ بھی کی دو دو، تین تین، چار چار سو سال سے زیادہ دیر تک نہیں رہتے۔لوگ کنوئیں کھدواتے ہیں تو وہ کی پچاس، ساٹھ یا سوسال کے بعد ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں لیکن دینی جماعتوں کا وقف اس سے بہت زیادہ لمبے عرصہ تک قائم رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں سے ہمیں بہت بہتر مقام عطا فرمایا ہے کیونکہ ان کے مسیح سے ہمارا مسیح اپنی ہر شان میں بلند اور بالا ہے لیکن عیسائیوں کے