خطبات محمود (جلد 19) — Page 818
خطبات محمود ۸۱۸ سال ۱۹۳۸ ء گریجوایٹ بھی ہو تو اسے بھی ہم پندرہ روپے ہی دیتے ہیں زیادہ نہیں اور یہ اتنا قلیل گزارہ ہے کہ بعض بیتامی اور مساکین کے وظائف اس کے لگ بھگ ہیں مگر باوجود اس کے کہ گزارہ انہیں اتنا تھوڑا دیا جاتا ہے جتنا بعض یتامی اور مساکین کو بھی ملتا ہے وہ کام بھی کرتے ہیں اور انہوں نے اپنی تمام زندگی خدمت دین کیلئے وقف کی ہوئی ہے ۔سردست ہمارا قانون یہ ہے کہ اگر ان میں سے کسی کی شادی ہو جائے تو اسے بیس روپے دیئے جائیں اور پھر بچے پیدا ہوں تو فی بچہ تین روپے زیادہ کئے جائیں اور اسی طرح چار بچوں تک یہی نسبت قائم رہے گویا ان کے گزارہ کی آخری حد بتیس روپے ہے مگر یہ بھی اس وقت ملیں گے جب ان کے گھروں میں چھ کھانے والے ہو جائیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ گزارہ کم ہے اسی طرح بچوں کی حد بندی کرنی بھی درست نہیں اور اسے جلد سے جلد دور کرنا چاہئے ۔ مگر فی الحال ہماری مالی حالت چونکہ اس سے زیادہ گزارہ دینے کی متحمل نہیں اس لئے ہم اس سے زیادہ گزارہ نہیں دے سکتے اور انہوں نے بھی خوشی سے اس گزارہ کو قبول کیا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ بیوی کے لحاظ سے بھی پانچ روپے الاؤنس کم ہے اور اسے بڑھانے کی ضرورت ہے بچوں کے لحاظ سے بھی فی بچہ تین روپیہ گزارہ تھوڑا ہے اور اس میں زیادتی ہونی چاہئے مگر یہ سب کچھ مالی حالت کے سدھرنے پر موقوف ہے۔ اسی طرح میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ بچوں کی حد بندی کرنی بھی درست نہیں کیونکہ نسل کا لہ نسل کا بڑھنا قومی لحاظ سے مفید ہوتا ہے لیکن بہر حال ابھی مالی دقتوں کی وجہ سے ہر عورت کے پانچ روپے اور فی بچہ تین روپے ہی مقرر کر سکے ہیں لیکن اگر ہم کسی وقت اس میں زیادتی بھی کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ کے لئے شاید ہمیں پچاس روپیہ سے زائد گزارہ مقرر نہیں کرنا پڑے گا حالانکہ جس قسم کی اعلیٰ تعلیم میں اُنہیں دلانا چاہتا ہوں اس کے بعد اگر یہ کہیں ملازمت کر لیں تو تین چارسور و پیہ ماہوار سے ان کی تنخواہ شروع ہو لیکن پھر بھی خواہ ہم انہیں کسی قدر قلیل گزارہ دیں جو کام یہ لوگ کریں گے آخر وہ روپیہ کا محتاج ہے ۔ ہم سے صد را جمن احمد یہ کے کا مدر انجمن کاموں میں یہ غلطی ہوئی ہے کہ عملہ کا بل سائر سے زیادہ ہو گیا ہے یعنی صدر انجمن احمد یہ کے کارکنان کی تنخواہوں کا بجٹ سائر کے بجٹ سے بہت زیادہ ہے