خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 754 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 754

خطبات محمود ۷۵۴ سال ۱۹۳۸ ء سوائے اس کے کہ کوئی دوسرا ز بر دست جذبہ محبت اس محبت کے مقابلہ میں آجائے ۔ جیسے کوئی دیندار باپ اپنے اس بیٹے سے جو خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہو قطع تعلق کر لیتا ہے اور وہ خدا کی محبت کے لئے اپنے دل کے ٹکڑے کو کاٹ کر پرے پھینک دیتا ہے مگر باوجود اس کے یہ غیرت کا جذ بہ اُس کی محبت کو مٹا تا نہیں ، وہ اس جذبہ کو چھپا دیتا ہے، انسانی نگاہوں سے اوجھل کر دیتا ہے مگر اسے جڑ سے اُکھیڑ نہیں سکتا ۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک دیندار باپ اپنے بے دین بچہ سے محبت کا اظہار خدا تعالیٰ کی محبت کے لئے چھوڑ دے مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ محبت کا جذ بہ گلیتہ مفقود ہو جائے ۔ باوجود اس کے کہ وہ ظاہری طور پر اس سے محبت نہیں کرتا ، اس کا دل کڑھتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ دعا کرتا رہتا ہے کہ اے خدا ! یہ دعا کرتا رہتا ہے کہ اے خدا! تو میرے بچہ کو بچا۔ وہ بعض دفعہ اسے دیکھنا بند کر دیتا ہے، اس سے ملنا جلنا بند کر دیتا ہے، اس کے ساتھ کھانا پینا بند کر دیتا ہے، اسے خرچ دینا بند کر دیتا ہے، اس کے گھر میں رہنا بند کر دیتا ہے، یا اسے اپنے گھر میں رہنے دینے سے انکار کر دیتا ہے ، مگر اس کے دل کا زخم ایک ناسور کی طرح رستا رہتا ہے اور اس کی موت تک یہی حالت رہتی ہے۔ اور وہ خدا تعالیٰ سے رو رو کر کہتا رہتا ہے کہ اے خدا ! میں نے تیرے لئے اپنے بچہ کو چھوڑ دیا ہے تو اپنے فضل سے اسے پھر مجھے واپس دلا دے ۔ تو ے ۔ تو حقیقی نفرت ایک باپ کو اپنے بچہ سے یا ایک ماں کو اپنے بیٹے سے کبھی نہیں ہوسکتی ۔ جب ماں باپ غصے بھی ہوں گے تب بھی اُس کی تہہ میں محبت کا جلوہ کا رفرما ہوگا اور زیادہ سے زیادہ اگر ہوگا تو یہی ہوگا کہ ایک بڑی محبت چھوٹی محبت کو دبا دے گی مگر وہ اسے مار نہیں سکتی ، اسے کچل نہیں سکتی ، اسے مٹا نہیں سکتی ۔ تو جہاں حقیقی تعلق ہوتا ہے وہاں وقفہ نہیں پڑتا بلکہ دائمی محبت اور دائمی قربانی کی روح کام کرتی نظر آتی ہے مگر جہاں محبت کی کمی ہوتی ہے وہاں قربانیوں میں وقفے پڑنے شروع ہو جاتے ہیں ۔ پس اگر تمہاری قربانیوں نے کوئی نیک نتائج پیدا نہیں کئے تو سمجھ لو کہ تمہارا خدا تعالیٰ سے عارضی تعلق تھا اور جب تم نے کسی عارضی تحریک کے ماتحت قربانی کی تو اس کا وہ نتیجہ کس طرح پیدا ہو سکتا تھا جو دائمی قربانی کے نتیجہ میں پیدا ہوا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک دفعہ رسول کریم وسکتا تھا کے نتیجہ میں پیدا ہوا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے ذکر کیا گیا کہ فلاں شخص بڑا عبادت گزار ہے کیونکہ اس نے