خطبات محمود (جلد 19) — Page 707
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء سامنے آئیں تو ان سے آواز آتی ہے کہ یہ سچا ہے جب فرہاد کا ذکر آئے تو آواز آتی ہے کہ وہ سچا ہے، خواہ وہ عورتوں کے عاشق تھے مگر عشق میں بچے تھے مگر جب خدا کے اس عاشق کا ذکر ہو تو میرے دل میں اس کے لئے کوئی عزت پیدا نہیں ہوتی۔اگر واقع میں یہ خدا تعالیٰ کا عاشق ہوتا تو کی دنیا کو اس سے متاثر ہونے میں کیونکر انکار ہو سکتا تھا۔لیلی سے ہماری کوئی رشتہ داری نہ تھی ، شیریں سے کوئی واسطہ نہ تھا پھر کیا وجہ ہے کہ قیس اور فرہاد کے حالات پڑھ کر تو دل پر اثر ہوتا ہے لیکن خدا تعالیٰ تو ہمارا ہے مگر اپنے اس خدا سے محبت کرنے والے کے متعلق ہمارے دلوں میں کوئی ٹیں نہیں اُٹھتی اسی وجہ سے کہ اس کی محبت بناوٹی ہے اور حقیقت کے سامنے بناوٹ ٹھہر نہیں سکتی۔شیشہ خواہ کتنا بڑا ہو چھوٹے سے چھوٹا ہیرا جو قلم کی نوک پر لگا ہو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے لیکن سچے دل سے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقيم کہنے والا فرض کر لو نا کام بھی رہے تو بھی وہ بڑی بھاری چیز ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ ہم دیکھیں گے کہ جو سچائی اسے ملی ہوئی ہے اس سے اس نے کیا فائدہ اٹھایا ہے۔آخر کوئی نہ کوئی سچائی خدا تعالیٰ نے اسے بتائی بھی کی تو ہوتی ہے۔جب ہم خدا تعالیٰ سے یہ کہتے ہیں کہ اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ تو کیا اس وقت تک ہمیں کسی سچائی کا پتہ بھی ہوتا ہے یا نہیں۔تو دیکھنا یہ ہوگا کہ اس دعا کے مانگنے والے کے پاس جو سچائی ہے اس سے اس نے کیا فائدہ اٹھایا ہے کہ اور مانگنے کا مستحق ٹھہر سکے۔جو شخص پہلی عطا کردہ سچائی سے تو فائدہ نہیں اٹھا تا اور مزید مانگتا رہتا ہے اس کی مثال اس بچہ کی سی ہے جس کی جھولی میں پھل پڑے ہیں اور انہیں وہ کھا نہیں سکتا مگر اور مانگتا جاتا ہے۔اس کا پیٹ تو اتنا چھوٹا ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے اسے بھی نہیں کھا سکتا لیکن حرص کی وجہ سے اس کا مطالبہ بڑھتا جاتا ہے مگر کیا یہ کبھی ہوا ہے کہ بچہ اس طرح مانگتا جائے اور ماں تھالیاں اس کے سامنے رکھتی جائے۔وہ اسے اور نہیں دیتی وہ جانتی ہے کہ اس کی خواہش جھوٹی ہے ورنہ جو کچھ اسے دیا جاچکا ہے پہلے اسے کیوں نہیں کھاتا۔اسی طرح سوال یہ ہے کہ جو شخص اهدنا الصراط المستقيم کہتا ہے اس کے پاس پہلے سے کوئی صداقت موجود ہے یا نہیں؟ کیا اسے معلوم نہیں کہ سب مذاہب نے سچ بولنے کا حکم دیا ہے پھر کیا وہ سچ بولتا ہے اگر نہیں تو اس کا اور مانگنا فضول ہے، اور تو اسے ملتا ہے جو پہلی چیز کو ختم کرے، جو پہلی نعمت کو