خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 706 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 706

خطبات محمود 2۔4 سال ۱۹۳۸ء جس طرح قیس نے لیلیٰ کے حصول کے لئے کوشش کی ، اسی محبت سے اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے جس کی طرح فرہاد شیر میں کو کرتا تھا، اسی خلوص کے ساتھ اپنے اندر تڑپ پیدا کرتا ہے جو ہیر کے لئے رانجھا کے دل میں تھی تو گو وہ ناکام ہی رہے۔اگر چہ الہی محبت کے رستہ میں انسان نا کام نہیں رہا کرتا لیکن فرض کر لو وہ کامیاب نہ ہو تو بھی اسی ٹھہرت کا مستحق ہوگا جو سکندر کو حاصل ہے، رستم اور حاتم کو حاصل ہے۔مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہزاروں لوگ روزانہ یہ دعا مانگتے ہیں انہیں کی شہرتِ دوام کیوں حاصل نہیں ہوتی۔ہم دیکھتے ہیں کہ ہزاروں ہیں کہ جو دن رات یہی رٹ لگاتے ہیں مگر ان میں سے کسی کو بھی شہرتِ دوام کا مقام حاصل نہیں ہوا۔بڑے بڑے لوگوں کو تو کی جانے دو ان کو رانجھے والا مقام بھی حاصل نہیں جو صرف پنجاب کا ہیرو تھا۔اب غور کرو کہ کیوں ایسا نہیں ہوتا ، دنیا کیوں فیصلہ نہیں کرتی کہ یہ شخص بھی فرہاد اور رانجھے کے مقام پر ہے۔کیا پہلوں نے دنیا کو کوئی رشوت دی ہوئی تھی کہ ان کا نام تو مشہور ہو گیا اور ان کا نہیں ہوتا۔ان کی کے واقعات سن کر لوگ رونے لگ جاتے ہیں۔اچھے اچھے ثقہ آدمی وہ شعر گنگناتے ہیں جن میں ان کے حالات بیان ہیں مگر یہ ان کے دروازہ پر بیٹھا ہوا انسان جو دن رات اهدنا الصراط المستقيم کہ رہا ہے اور وہی نقل کر رہا ہے جو قیس ، فرہاد اور رانجھے نے کی تھی مگر لوگ اُنہیں تو یاد کرتے ہیں لیکن اس کا نام کوئی نہیں لیتا اور پھر کوئی یہ بھی نہیں کہتا کہ میاں تم قیس کو تو یا دکرتے ہو فرہاد کی قدر کرتے ہومگر یہ کیا اُن سے کم ہے کہ جو دن میں چالیس پچاس مرتبہ اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ كُ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ كُ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ : کہتا رہتا ہے۔تم پرانے کی قیں ، فرہاد اور رانجھے کو یاد کرتے ہو اور اس نئے قیس، فرہاد اور رانجھے کا ذکر تک نہیں کرتے حالانکہ وہ تو عورتوں کے عاشق تھے مگر یہ خدا کا عاشق ہے۔تم میں سے ہر ایک شخص اپنے نفس کو ٹولے کہ وہ اس کا کیا جواب دے گا۔وہ یہی کہے گا کہ ایک چھوٹا سا ہیرا شیشے کے بہت بڑے ٹکڑے سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔بے شک یہ شخص کہتا ہے کہ میں عاشق ہوں مگر اس کے چہرے پر عشق کے وہ آثار نظر نہیں آتے جو قیس اور رانجھا میں دکھائی دیتے ہیں۔میں کیا کروں میرے اندر جو دماغی قابلیتیں ہیں جب قیس کے واقعات