خطبات محمود (جلد 19) — Page 708
خطبات محمود 2۔1 سال ۱۹۳۸ء استعمال کرے خدا تعالیٰ اسے اور دیتا ہے لیکن جس کی یہ حالت ہو کہ جو کچھ اسے ملے اس کو تو ی پیچھے پھینک دیتا اور اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا تا لیکن اور مانگتا جاتا ہے۔تو وہ نادان بچہ کی طرح ہے جسے یا تو بہلا دیا جائیگا اور یا اگر وہ زیادہ شور کرے گا تو ماں ایک تھپڑر اس کے لگا دے گی۔بیمار، جاہل اور ضدی بچے ہمیشہ ایسا کرتے ہیں چیز مانگتے ہیں اور اسے پھینک کر اور مانگنے لگتے ہیں۔ایسا بچہ اگر تو بیمار ہو تو ماں اسے بہلاتی ہے اور اگر ضدی ہو تو تھپڑ رسید کر دیتی ہے۔اسی طرح جو شخص پہلی سچائیوں پر عمل کئے بغیر اهدنا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے جاتا ہے وہ اگر تو بیمار ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بہلا دیگا لیکن اگر بیمار نہیں تو بجائے صراط مستقیم کے اسے تھپڑ بھیجے گا اور کہے گا کہ نالائق تجھے اتنی چیزیں میں نے دے رکھی ہیں ان کو تو استعمال کرتا نہیں اور مزید مانگتا جاتا ہے۔مگر جو پہلی ملی ہوئی سچائی سے فائدہ اٹھا کر اور مانگتا ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئی سچائی بھیجی جاتی ہے جس طرح ہمارا خدا غیر محدود ہے اسی طرح صراط مستقیم غیر محدود ہے اور خدا تعالیٰ کا وصال غیر محدود ہے جو شخص کسی بھی مقام پر پہنچ کر یہ کہتا ہے کہ میں کی نے خدا تعالیٰ کو ایسا پالیا کہ اب آگے قدم اٹھانے کی کوئی گنجائش نہیں وہ جھوٹا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اَنَا سَیدُ وُلدِادَ م کے یعنی میں سب انسانوں کا سردار ہوں۔آپ کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنا فتدتی کے یعنی وہ خدا تعالیٰ کے قریب ہوا۔اور اس نے انتہائی قرب کو پالیا۔اور پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔قُل اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحببكم الله ہے کہ اے رسول ! تو ان لوگوں سے کہہ دے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میرے غلام بن جاؤ خدا تعالیٰ کے محبوب بن جاؤ گے۔اس انسان کو اللہ تعالیٰ یہ بھی ہدایت کرتا ہے کہ آپ زدني علمات کی دعا مانگا کرو۔یعنی اے اللہ ! مجھے اپنا قرب اور عرفان اور زیادہ بخش تو انتہائی مقام پر پہنچے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ یہ حکم دیتا ہے کہ کسی بھی مقام پر پہنچ کر یہ مت سمجھو کہ سب کچھ مل گیا بلکہ دت زدني علما کہو اور یہ دعا کرتے رہو کہ اے خدا! مجھے علم دین اور عرفان میں اور بڑھا اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی ترقی کی گنجائش باقی ہے تو اور کون ایسا انسان ہے جس کے لئے کوئی مقام بھی باقی نہ رہا ہو۔ہر انسان کے لئے خواہ وہ کسی مقام پر ہو مزید مانگنے کی گنجائش باقی رہتی ہے کی