خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 586 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 586

خطبات محمود ۵۸۶ سال ۱۹۳۸ ء ۔ کا صاف مطلب یہ تھا کہ بعد میں ایسے قتل ہوتے رہے ہیں مگر انہوں نے صرف وہ حصہ نقل کر دیا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ اس آیت میں قتل سے مراد حقیقی قتل نہیں ۔ حالانکہ عبارت میں اشارہ موجود ہے کہ اس کے بعد کے زمانہ میں قتل انبیاء ثابت ہے۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ہم کہیں کہ کے ہے یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کبھی کوئی اُمتی نبی نہیں ہوا تو کوئی شخص ہمارے ان الفاظ کو لے اُڑے اور کہنا شروع کر دے کہ صاف اقرار کر لیا گیا ہے کہ کبھی کوئی اُمتی نبی نہیں ہو سکتا ۔ کہنا اقرار کرلیا ہے کہ نبی ہر شخص اسے کہے گا کہ یہاں تو یہ ذکر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کبھی کوئی اُمتی نبی نہیں ہوا۔ یہ تم نے کہاں سے نکال لیا کہ بعد میں بھی کوئی امتی نبی نہیں ہوگا ۔ اسی طرح یہاں یہ لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ تک کسی نبی کا قتل بنی اسرائیل سے ثابت نہیں اور النبین سے مراد حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہم السلام ہی ہو سکتے ہیں اور ان دونوں نبیوں کو بنی اسرائیل نے قتل نہیں کیا مگر اسے ایسے رنگ میں پیش کیا گیا ہے کہ طبیعت پر یہ اثر ہو کہ بنی اسرائیل نے کبھی کسی نبی کو قتل نہیں کیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم نے یہ لکھا ہے کہ کبھی قتل کا لفظ صرف کوشش قتل یا ارادہ قتل پر بھی بولا جاتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا قتل کا لفظ واقعی قتل پر نہیں بولا جاتا۔ یقیناً قتل پر بھی یہی لفظ بولا جائے گا۔ مگر یہاں جو ہم نے اس کے معنے کوشش قتل یا ارادہ قتل کے کئے ہیں تو اس لئے کہ یہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ہی ذکر تھا اور تاریخوں سے یہ امر ثابت ہے کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کر سکے ۔ پس چونکہ یہود اس وقت اپنے ارادہ قتل میں ناکام رہے تھے اور اس آیت میں جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہم السلام کے متعلق ہے۔ یقتلون کے الفاظ آتے تھے اس لئے ہم نے اس کے معنے کوشش قتل یا ارادہ قتل کے کئے لیکن یہ بات تو اُس وقت کے علم کی بنا پر لکھی گئی تھی ۔ ( حقیقت یہ ہے کہ ترجمہ قرآن کا یہ نوٹ اور یہ استدلال میرا ہی لکھا ہوا ہے ) اب جو میرا علم ہے اس کی بناء پر میں کہہ سکتا ہوں کہ ممکن ہے اس وقت بھی یہود نے بعض انبیاء کو قتل کیا ہو کیونکہ تاریخ سے بعض شہادتیں اس امر کے متعلق ملتی ہیں کہ حضرت ہارون علیہ السلام بھی شہید کئے گئے تھے اور یہود نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر یہ الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ہارون کی کی ترقی سے جل کر اسے قتل کر ڈالا ہے۔ پس اگر یہ روایت صحیح ہے تو اس وقت کے لحاظ سے بھی