خطبات محمود (جلد 19) — Page 538
خطبات محمود ۵۳۸ سال ۱۹۳۸ ء کھانا جایا کرتا تھا مگر ہمارے گھر میں تو کبھی لنگر کا کھانا نہیں آیا۔ میری خلافت پر ابھی دو چار دن ہی گزرے تھے کہ میں نے اپنے گھر والوں کو نہایت سختی سے روک دیا اور کہا کہ لنگر سے کھانا کبھی نہیں منگوانا لنگر تمہارا ذمہ دار نہیں ۔ تم چاہو تو پہرے لگا کر دیکھ سکتے ہو کہ آیا یہ بات درست ہے یا نہیں اور آیا کبھی بھی ہمارے گھر لنگر خانہ سے کھانا آیا حالانکہ حضرت خلیفہ اول کے گھر ہمیشہ لنگر کا کھانا جایا کرتا تھا۔ صدر انجمن احمد یہ کے جو کارکن ہیں ان میں بھی بعض منافق ہیں وہ اور دوسرے منافق ہمت کر کے ایک لسٹ کیوں شائع نہیں کرتے جس سے ہر شخص کو یہ معلوم ہو سکے کہ میں جماعت کا کتنا روپیہ کھا گیا ہوں ۔ اگر ان میں ہمت ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا دعویٰ درست ہے تو وہ ایسی لسٹ شائع کر دیں پھر لوگوں کو خود بخود معلوم ہو جائے گا کہ کون درست بات کہہ رہا ہے اور کون غلط ۔ میری تو یہ حالت ہے کہ میں سوائے اس رقم میں سے جس کے متعلق مجلس شوری نے میری عدم موجودگی میں فیصلہ کیا تھا قرض کے طور پر اخراجات لینے کے بطور امدا دانجمن سے ایک پیسہ بھی نہیں لیتا ، بلکہ کئی دفعہ میرے چندے ان رقموں سے بڑھ جاتے ہیں جو جماعت کے دوستوں کی طرف سے بطور نذرانہ وغیرہ ملتی ہیں ۔ اسی طرح اُس نے لکھا ہے کہ آپ کو روپیہ دیتے دیتے جماعت غریب ہو گئی ۔ چنانچہ وہ اس کی مثال دیتے ہوئے لکھتا ہے حکیم نظام الدین صاحب کا لڑ کا صلاح الدین رشید تو تعلیم سے محروم رہے مگر تمہارے لڑکے ولایت تک تعلیم حاصل کر آئیں یہ کونسا انصاف ہے حالانکہ ہمارے لڑکے اگر ولایت تعلیم حاصل کرنے کے لئے گئے ہیں تو اس کے خرچ کا بار جماعت پر نہیں پڑا بلکہ ہم نے اپنی زمینیں فروخت کر کے انہیں ولایت تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ پس میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ہمارے لڑکوں کے پڑھنے سے جماعت کیونکر غریب ہو گئی ۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ہمارے لڑکے پڑھیں اپنے خرچ پر اور غریب جماعت ہو جائے ۔ ولایت تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہمارے تین لڑکے گئے ہیں اور تینوں کے لئے ہم نے اپنی زمینیں فروخت کیں ۔ مرزا عزیز احمد صاحب کا لڑکا تعلیم حاصل کرنے کے لئے گیا تھا ۔ جو بے چارہ فوت بھی ہو گیا اس کے لئے انہوں نے اپنے حصہ کی زمین فروخت کی تھی ۔