خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 536

خطبات محمود ۵۳۶ سال ۱۹۳۸ ء خط لکھتے ہیں اور جب میں جواب نہیں دیتا تو وہ شکایت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں شاید میں ان کے خطوں کا اس لئے جواب نہیں دیتا کہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہوں حالانکہ میں جواب اس لئے نہیں دیتا کہ یہ بات میری طبیعت کے خلاف ہے اور میں اسے بھی سوال کا ایک رنگ سمجھتا ہوں ۔ ہاں اگر کوئی دوست خود بخود کوئی تحفہ دے جائے تو میں اسے رد بھی نہیں کرتا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یہ یہا امر ثابت ہے ہے کہ کہ آپ آپ ا ایسے تحائف قبول فرما لیا کرتے تھے ۔ آپ نے فرمایا بھی ہے کہ بِغَيْرِ اَشْرَافِ نَفْسٍ بغیر نفس کی خواہش کے اگر کوئی شخص تحفہ د کی شخص تحفہ دے تو اُسے قبول کر لو بَارَكَ الله لَكَ فِيهِ الله تعالیٰ تجھے اس میں برکت دے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی ایسے تحائف قبول کر لیا کرتے ۔ آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تجارت نہیں کیا کرتے تھے آپ کی کوئی جائداد نہیں تھی ۔ پھر آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ میں کوئی اجر نہیں مانگتا ۔ ایسی صورت میں صحابہ میں سے اگر کوئی اپنی مرضی سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ کچھ پیش کرتا تو آپ اسے قبول فرما لیتے کے اور اگر کوئی آپ ہی اپنی مرضی سے خدمت کرتا اور پھر اس کا احسان جتاتا ہے تو اس سے زیادہ گندہ اور کمینہ شخص اور کون ہو سکتا ہے اور کب اسے کہا گیا تھا کہ کچھ دو ۔ اسی طرح میں ہمیشہ کہتا رہتا ہوں کہ مجھے کچھ مت دو اور اگر کوئی مجھ سے کچھ لانے کے لئے پوچھتا بھی ہے تو میں اس کا جواب نہیں دیتا۔ ایسی حالت میں بغیر میری خواہش کے اگر کوئی شخص مجھے نذرانہ دیتا ہے تو وہ اپنی مرضی اہے میں نے کبھی کسی سے نذار نہ نہیں مانگا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے ایام میں سیالکوٹ کے ایک زمیندار دوست نے میرے ہاتھ پر چونی رکھ دی مجھے یاد ہے کہ اس وقت شرم کے مارے میرا جسم پسینہ پسینہ ہو گیا اور میں اس مجلس سے بھاگا اور سیدھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ السلام کی خدمت میں پہنچا اور وہ چونی آپ کے سامنے پیش کر دی اور شکوہ کیا کہ ایک شخص نے آج میرے ہاتھ پر یہ چونی رکھ دی ہے ۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ مجھے اس کا فعل اچھا نہیں لگا۔ فرمایا تمہیں اس کے جذبے کی قدر کرنی چاہئے اس نے جو کچھ کیا ہے محبت کے ماتحت کیا ہے، تمہاری ہتک کرنے کے خیال سے نہیں کیا۔ حدیث میں بھی آیا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے کچھ دے تو وہ لے لو۔ کہ سے دیتا۔