خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 432

خطبات محمود ۴۳۲ سال ۱۹۳۸ء کا فرنہیں کہلائے گا۔ہم ایسے شخص کو بعض دفعہ سزا کے طور پر جماعت سے الگ کر سکتے ہیں مگر احمدیت یا اسلام سے الگ نہیں کر سکتے۔اپنی جماعت کے نظام کی درستی ، اسے لوگوں کے اعتراضات سے محفوظ رکھنے اور خود اسے آئندہ کے لئے سبق دینے کے لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کا ہماری جماعت سے کوئی تعلق نہیں، مگر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ احمدیت سے خارج ہو گیا۔یا کچ اسلام سے خارج ہو گیا۔ایسی صورت میں اگر وہ عقائد اور اعمال کو تسلیم کرنے میں ہمارے کی ساتھ متفق ہے یعنی وہ کہتا ہے کہ نماز پڑھنی چاہئے وہ کہتا ہے کہ زکوۃ دینی چاہئے ، وہ کہتا ہے کہ حج کرنا چاہئے ، وہ کہتا ہے کہ چوری نہیں کرنی چاہئے ، مگر بعض دفعہ وہ نمازیں نہیں پڑھتا ، بعض دفعہ وہ روزے نہیں رکھتا ، بعض دفعہ وہ استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتا یا بعض دفعہ چوری کر لیتا ہے تو ہم اسے ناقص مسلمان تو کہہ سکتے ہیں مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ غیر مسلم ہے یہی حالت قصہ زیر بحث کی ہے۔جس شخص نے اس فعل کا ارتکاب کیا اس کے عقائد وہی ہیں جو ہمارے ہیں۔اعمال کے متعلق وہ تسلیم کرتا ہے کہ قرآن نے جو کچھ کہا ہے اس کا حرف حرف قابل عمل ہے۔پھر وہ منافقت کی وجہ سے اس فعل کا مرتکب نہیں ہوا بلکہ جوش کی حالت میں اس سے یہ فعل سرزد ہو ا ہے۔یعنی یہ نہیں ہوا کہ اس نے یہ کہا ہو کہ میں خدا کے اس حکم کو رڈ کرتا ہوں اور اسے کی ماننے کے لئے تیار نہیں بلکہ جوش کی حالت میں جبکہ ممکن ہے وہ خدا کے اس حکم کو بھول گیا ہو یا اس کے نفس نے اس کی کوئی اور تاویل کر لی ہو اس نے اس فعل کا ارتکاب کیا۔پس ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ وہ مذہب سے باہر ہو گیا۔ہم آئندہ زیادہ سختی سے روکنے کی خاطر ایسے شخص کو (اگر خدانخواستہ کوئی ایسا فعل کرے) جماعت سے نکال تو دیں گے مگر جب کہ وہ سب عقائد کو مانتا ہو ، جماعت سے عملاً جدا نہ ہوتا ہو یا اس میں تفرقہ نہ ڈالتا ہو اور صرف کسی عمل کا باوجود اس کو نا جائز سمجھنے کے غلطی سے مرتکب ہو جاتا ہو۔یا حکم تو درست سمجھتا ہو لیکن اس کا اطلاق غلط کر لیتا ہو تو اسے ہم احمدیت سے الگ نہیں سمجھ سکتے۔مثلاً قتل ہے یہ ایک ناجائز فعل ہے مگر مسلمان عام طور پر سمجھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے جوش میں کسی ایسے غیر مسلم کو قتل کر دینا جائز ہے جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتک کی ہو۔اب ایسے شخص کے متعلق ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ ناقص مسلمان ہے مگر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ صرف اس وجہ سے وہ اسلام سے نکل گیا۔۔