خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 413

خطبات محمود ۴۱۳ سال ۱۹۳۸ء سوائے اس کے کوئی اور طریق نہیں کہ مدعا علیہ سے ہم مل جائیں اور اس کے دفاع کے ساتھ اپنا دفاع بھی پیش کر دیں اور مدعا علیہ کا وکیل تب ہی ہماری بات سنے گا جب اس کے موکل کا ہمارے ساتھ تعلق ہوگا۔یونہی وہ ہماری بات کس طرح سن سکتا ہے۔مگر خیر یہ ایک تجربہ تھا جو اس دفعہ ہمیں حاصل ہوا اور جس سے خدا ہمیں تو بچائے مگر دوسری قومیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں اور جب حکومت ان سے یہ مطالبہ کرے کہ فلاں معاملہ میں بحیثیت جماعت تم مددمت کرو تو وہ کہہ سکتی ہیں کہ بہت اچھا ہم مدد تو نہیں کریں گی مگر ساتھ ہی آپ کا بھی یہ اخلاقی فرض ہو گا کہ بات صرف مجرم تک رہے اور ایسے لوگوں کا نام لینے کا افسر ہرگز مجاز نہ ہوں جو فریق مقدمہ نہیں اور اگر وہ لیں تو حکومت کی طرف سے انہیں سزا دی جائے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر دفاع کے سامان کس طرح مہیا ہوئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب میاں عزیز احمد صاحب کے ہم وطنوں کو جو کافی تعداد میں قادیان میں ہیں یہ معلوم ہوا کہ جماعت بحیثیت جماعت اب ان کی مدد نہیں کرے گی تو ان میں سے بعض مجھ سے ملے اور اس امر کے خلاف احتجاج کیا اور کہا کہ ملزم کو بغیر امداد کے چھوڑ نا جائز نہیں۔جب میں نے انہیں کہا کہ ملزم نے حملہ خود تسلیم کیا ہے۔اس صورت میں ہم اس کی کیا مددکر سکتے ہیں تو اس پر بعض نے کہا کہ بے شک ملزم نے حملہ تسلیم کیا ہے لیکن ہر حملہ کی سزا تو نہیں ہوتی۔بعض حملوں کی سزا عبور دریائے شور ہوتی ہے، بعض حملوں کی سزا دس سال قید ہوتی ہے اور بعض حملوں کی سزا پھانسی ہوتی ہے اس صورت میں کیا اگر اس کا جرم پھانسی کے قابل نہیں بلکہ قید کے قابل ہے تو ہما را حق نہیں کہ اس کو دفاع میں مدد دیں تا وہ اپنا حق حاصل کرے اور اسے اپنے مُجرم سے زیادہ سزا نہ ملے۔آخر مجرم کے ثابت ہونے سے پہلے اس کے جرم کی نوعیت کیونکر معلوم ہو گئی۔اور کیا کی اگر اس کا مجرم دس سال قید کی سزا والا ہے تو ہمارا فرض نہیں کہ اس کو دفاع میں مدد دیں تا غلطی سے مجسٹریٹ اسے پھانسی کی سزا نہ دے دے۔یہ تو مجرم کی نہیں بلکہ حق کی مدد ہو گی اگر اس قسم کی کج کوشش کی جائے۔پس انہوں نے یہ سوال کیا کہ کیا ہمارا حق نہیں کہ ہم دفاع میں اس کی جائز حد تک مدد کریں تا اسے جُرم سے زیادہ سزا نہ ملے۔آخر بجرم کے ثابت ہونے سے پہلے ہمیں جرم کی کی ،