خطبات محمود (جلد 19) — Page 414
خطبات محمود ۴۱۴ سال ۱۹۳۸ء نوعیت کیونکر معلوم ہوگئی اور ہمیں کیونکر پتہ لگ گیا کہ یہ جرم اس قسم کا ہے جس کی سزا پھانسی ہے۔یا اس قسم کا ہے جس کی سزا عبور دریائے شور ہے۔یا اس قسم کا ہے جس کی سزا دس سال قید ہے۔یہ جرح ان کی معقول تھی۔میں نے ان کو جواب دیا کہ ہم یہ وعدہ کر چکے ہیں کہ بحیثیت جماعت ان کی مدد نہ کریں گے۔آپ لوگوں کو انفرادی طور پر امداد کی اجازت دینا میرے نزدیک اس وعدہ سے باہر ہے لیکن بہتر ہوگا کہ ہم حکومت کا خیال معلوم کر لیں کہ وہ ہمارے کی وعدہ کے کیا معنی لیتی ہے۔چنانچہ مکمہ امور عامہ کی طرف سے ڈپٹی کمشنر صاحب کو بھی لکھی گئی کہ میاں عزیز احمد صاحب کے بعض ہم وطنوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ ہمیں اس کی مدد سے کیوں روکا جاتا ہے۔ابھی تو اس کا جرم ثابت ہی نہیں ہوا اور نہ مُجرم کی نوعیت کا علم ہوا ہے تو جس حد تک اس کی مدد کرنے کا ہمیں اور قانون سے فائدہ اٹھانے کا انہیں حق حاصل ہے اس سے ہمیں اور انہیں کیوں محروم کیا جاتا ہے۔اس پر ڈپٹی کمشنر صاحب نے ہمیں تحریری جواب دیا کہ کسی ملزم کو دفاع سے ہم محروم نہیں کرنا چاہتے۔جماعت اگر بحیثیت جماعت مدد نہ کرے اور انفرادی طور پر ملزم کے ہم وطن یا دوست یا تعلق والے کوئی چندہ کرنا چاہیں تو ان کو روکنے کی کوئی وجہ نہیں۔چنانچہ اس چٹھی کے مطابق جو اب تک ہمارے پاس موجود ہے انہیں اجازت دے دی گئی کہ وہ چندہ کریں اور جائز حد تک مدد کریں یعنی مدعی کو جھوٹ بولنے سے روکیں یہ نہ ہو کہ وہ کہہ دے کہ میں نے کوئی حملہ نہیں کیا جس پر ان لوگوں نے اس غرض سے لوگوں سے چندہ کر کے وکیل کیا۔ان میں سے بعض لوگ مجھ سے بھی چندہ لینے کے لئے آئے تو میں نے کہا کہ میں اس میں چندہ نہیں دے سکتا بلکہ ناظروں کو بھی چندہ دینے کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ ہمارا وجو د سلسلہ سے ایسا وابستہ ہے کہ ایسے امور میں ہماری کوئی منفر د ذات نہیں ہوتی۔ایک عام احمدی کی حیثیت اور ہے اور ہماری اور۔ہم مرکز کو کی چلانے والے ہیں مگر ایک عام احمدی مرکز کو چلانے والا نہیں پس اس میں نہ میں نے چندہ دیا اور نہ ناظروں کو میں نے اس میں حصہ لینے یا کام کرنے کی اجازت دی۔پس یہ جو کچھ ہوا اسی حکومت کی اجازت سے ہوا جس کے ساتھ ہم نے وعدہ کیا تھا۔احرار یا مصریوں سے تو ہمارا کوئی وعدہ تھا ہی نہیں پھر ہمارے قول میں اختلاف انہیں