خطبات محمود (جلد 19) — Page 347
خطبات محمود ۳۴۷ سال ۱۹۳۸ء پڑا ہے کہ میاں عزیز احمد صاحب کے جنازہ میں ہزاروں احمدی شامل ہوئے یہ بغیر حکم کے کس طرح ہوسکتا تھا۔ضرور ہے کہ جماعت کے لوگوں کو یہ حکم دیا گیا ہو کہ جاؤ اور مظاہرہ کرو۔پس یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہم ایسے افعال سے ہمدردی نہیں رکھتے۔یہ صحیح نہیں۔کیا یہ ہمدردی نہیں کہ ہزاروں احمدی اس کے جنازہ میں شامل ہوئے اور کیا بغیر خاص حکم کے ایسا ہوسکتا تھا۔پھر یہ بھی کہ کیوں جماعت نے ان کا جنازہ پڑھا اگر وہ اس فعل کو برا کہتے تھے تو ایسے شخص کا جنازہ کیوں کی پڑھا گیا۔دوسری طرف یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ اگر جنازہ پڑھنا بُر انہیں تھا تو امام جماعت احمد یہ نے خود کیوں جنازہ نہیں پڑھایا گویا وہ اس اعتراض کی دو شقیں کرتے ہیں۔ایک تو یہ کہ اگر اس کا فعل بُرا تھا تو پھر جماعت کا اس کثرت کے ساتھ اس کے جنازہ میں شامل ہونا درست نہیں تھا۔پھر یہ کہ ان کا شامل ہونا آپ ہی آپ نہیں تھا بلکہ مرکز کی طرف سے حکم تھا کہ جنازہ میں ضرور شامل ہونا چاہئے۔اس طرح ان کے نزدیک گویا منافقت کی گئی ہے کہ دنیا کو یہ کہا گیا ہے کہ ہم اس کے فعل سے بیزار ہیں مگر عملاً اس بیزاری کا اظہار نہیں کیا گیا۔دوسری شق اس کی اعتراض کی یہ ہے کہ اگر جنازہ پڑھنا کوئی بُرا کام نہیں تھا تو خود میں نے کیوں جنازہ نہیں پڑھایا۔یہ وہ چار اعتراضات ہیں جو میرے کانوں میں پڑے ہیں۔اور میں سمجھتا ہوں ان کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر دینا میرے لئے ضروری ہے تا کہ جس حد تک اعتراض نا واجب کی ہے اس کا ازالہ ہو جائے اور جس حد تک اعتراض حقیقت پر مبنی ہے اس کی تشریح ہو جائے۔بیشتر اس کے کہ میں اصل سوالوں کا جواب دوں۔میں سمجھتا ہوں یہ مناسب ہوگا کہ دوستوں کو سمجھانے کے لئے اور مخالفوں کو سمجھانے کے لئے بھی (اگر وہ سمجھنے کی کوشش کریں ) بعض اصول بیان کر دوں کیونکہ ان اصول کو سمجھے بغیر ان باتوں کے جوابات پوری طرح سمجھ میں نہیں آسکتے اور جو پہلو میں اختیار کروں گاوہ پوری طرح ان پر واضح نہیں ہو سکے گا۔پہلا امر جوان تشریحات کے سمجھنے سے پہلے جنہیں آئندہ چل کر اگر اللہ نے مجھے توفیق دی تو بیان کروں گا یہ ہے کہ الفاظ کی ظاہری شکل کو دیکھ کر کسی فتویٰ کا لگا دینا درست نہیں ہوتا بلکہ اس حقیقت کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ جو الفاظ کے پیچھے ہوتی ہے۔دنیا میں ظاہری صورتیں کی