خطبات محمود (جلد 19) — Page 348
خطبات محمود ۳۴۸ سال ۱۹۳۸ء نہ کچھ حقیقت رکھتی ہیں اور نہ ظاہری فقرات کچھ حقیقت رکھتے ہیں۔بسا اوقات اچھے فقرے ہوتے ہیں جن کے بُرے معنے ہوتے ہیں اور بسا اوقات بُرے فقرے ہوتے ہیں جن کے اچھے معنی ہوتے ہیں۔ہمارے ملک میں لوگ عام طور پر کہا کرتے ہیں کہ فلاں بڑا حضرت ہے۔اب بڑا حضرت کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ قابل عزت لوگوں میں سے وہ شخص بہت بڑا ہے۔اور اگر ہم الفاظ کو لیں تو یہ تعریفی الفاظ ہیں بُرے الفاظ نہیں کہ فلاں صاحب بڑے حضرت ہیں کیونکہ حضرت کا لفظ ادب اور احترام کے لئے بولا جاتا ہے۔حتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی جو لفظ کثرت سے ہمارے ملک میں استعمال کیا جاتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہے۔مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق بھی جو لفظ ہم کثرت سے استعمال کرتے ہیں وہ حضرت صاحب یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہے۔پھر ان سے اُتر کر اور بزرگوں کی کے متعلق بھی ہم حضرت کا لفظ استعمال کرتے ہیں چاہے وہ دینی بزرگ ہوں یا دنیوی۔عام طور پر ہمارے ملک میں مؤدب اولاد کہتی ہے۔حضرت والد صاحب کی طرف سے یہ بات ہے۔اس زمانہ میں عربی زبان میں بھی والد کی نسبت یا اور بزرگوں کی نسبت حضرت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔تو ہمارے ہاں جو تعریف کے الفاظ ہیں ان میں سے بہترین لفظ یہ ہے۔علماء کا جب ذکر جب عربی کے اخبارات میں کریں گے تو کہیں گے، الحضرت الفاضل فلاں فلاں ، باپ کا ذکر آئے تو کہیں گے الحضرة الوالد، پیروں کا ذکر ہمارے ملک میں جب ان کے مرید کرتے ہیں تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے حضرت صاحب ایسے تھے ، بزرگوں کا ذکر کرنا ہو تو کہتے ہیں، حضرت فلاں بڑے بزرگ ہوئے ہیں لیکن باوجود اتنا متبرک لفظ ہونے کے اور با و جو د اتنی وسیع عظمت کے معنی اپنے اندر مخفی رکھنے کے ہمارے ملک میں طنز ا بعض دفعہ کہہ دیا جاتا ہے فلانے بڑے حضرت ہیں۔یا فلاں بڑا حضرت ہے۔اب کیا ان معانی کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی کہہ سکتا ہے کہ بڑے حضرت کا لفظ اس نے ادب کے طور پر استعمال کیا ہے۔تو ہر جگہ خالی الفاظ کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ حقیقت کو دیکھا جائے گا اور اس امر پر غور کیا جائے کہ ان الفاظ کو کس رنگ میں استعمال کیا گیا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی عادت تھی کہ جب آپ بہت جوش اور محبت سے