خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 346

خطبات محمود ۳۴۶ سال ۱۹۳۸ء وہ کہتے ہیں ہم نے اس دوست کو سمجھایا کہ یوں نہیں کہنا چاہئے۔تو وہ کہنے لگے میرے ساتھ قادیان چلو۔میں اسی فیصدی ایسے لوگ ثابت کر سکتا ہوں کہ جب انہیں یا ان کے ماں باپ کو گالی دی جائے تو وہ برداشت نہیں کریں گے اور یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا سلسلہ اور نظام کے متعلق جب دشمنوں کی طرف سے کوئی بات کہی جاتی ہے اور وہ اسے برداشت کر لیتے ہیں تو یہ صبر کا نہیں بلکہ بے غیرتی کا نتیجہ ہوتا تج ہے۔حالانکہ گالی دینے والے کا علاج سوائے سختی کے اور کیا ہے: دوسری بات وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے یہ کہی کہ ان میں سے ایک ہی شخص نے غیرت کا حج مظاہرہ کیا۔یعنی میاں عزیز احمد صاحب نے اور انہوں نے اس کی کوئی امداد نہ کی بلکہ خاموش بیٹھے رہے۔یہاں تک کہ جب اس کی وجہ سے ہائی کورٹ نے خلیفہ اسی کے متعلق بعض کی ریمارکس کئے تو اس وقت جماعت میں جوش پیدا ہوا۔اور دوڑ بھاگ کی گئی حالانکہ اگر شروع کی سے ہی جب یہ واقعہ ہوا تھا کوشش کی جاتی تو شاید میاں عزیز احمد کو پھانسی نہ ملتی اور وہ بچ جاتے۔یہ دو باتیں ہیں جو اس دوست نے پشاور سے لکھی ہیں۔اور تحریر کیا ہے کہ ہم اس دوست کو سمجھاتے رہے اور وہ اصرار کرتے رہے جس سے انہوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ وہ دوست اور ایسے ہی اگر کوئی اور دوست ہوں تو ان دلوں پر زنگ لگا ہوا ہے کیونکہ وہ قادیان اور مرکز سلسلہ کا کی احترام نہیں کرتے اور چونکہ ایسے شخص نے قادیان کے لوگوں کی ہتک کی ہے اور فتنہ پیدا کیا ہے کی اس لئے اس کا ازالہ ہونا چاہئے۔یہ تو ایک احمدی اور اپنے دوست کی طرف سے مجھے بات پہنچی ہے۔نام انہوں نے نہیں لکھا صرف اتنا لکھا ہے کہ وہ دوست احمدی اور مبائع ہیں۔اس کے علاوہ مجھے دو اور باتیں بھی پہنچی ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ بھی قابل توجہ ہیں۔اگر چہ وہ کی دوستوں کی طرف سے نہیں بلکہ مخالفوں کی طرف سے پہنچی ہیں۔ان میں سے پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ جماعت احمدیہ کی طرف سے کہا تو یہ جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ میاں عزیز احمد کی مدد نہیں کرتی رہی حالانکہ اس کے مقدمات پر ہزار ہا روپیہ خرچ کیا گیا ہے ورنہ ایک غریب آدمی ہائی کورٹ اور پر یوی کونسل تک مقدمہ کیونکر لڑ سکتا تھا۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک احراری مولوی نے بھی اپنی ایک تقریر میں یہ مضمون بیان کیا ہے۔ایک اعتراض مخالفوں کی طرف سے یہ بھی میرے کان میں