خطبات محمود (جلد 19) — Page 301
خطبات محمود ۳۰۱ سال ۱۹۳۸ ء امن حاصل نہیں ، جسے چھوٹی چھوٹی اقلیتیں بھی دبانے اور ڈرانے کی کوشش کرتی رہتی ہیں ، جس کی مثال اپنے مخالفین کے مقابلہ میں ایسی ہی ہے جیسے بتیس دانتوں میں زبان ہوتی ہے۔ وہ ان زبر دست اور عظیم الشان طاقتوں کی اصلاح کر سکتی ہے یا نہیں ۔ یہ ایک سوال ہے جو ہر شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہے اور بظاہر انسانی سامانوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ امر بالکل نا ممکن نظر آتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جب بھی کوئی کام لیا ہے ہمیشہ ایسے ہی وجودوں سے لیا ہے جو بظاہر دنیا میں بے کس نظر آتے تھے ، آتے تھے ، بظاہر ذلیل اور حقیر نظر آتے تھے ، بظاہر نا کارہ اور لغو دکھائی دیتے تھے مگر الہی تصرف سے ترقی کر کے وہ ایسی طاقت پکڑ گئے کہ دنیا ان کے کاموں سے حیران رہ گئی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو جد و جہد شروع ہوئی کون کہہ سکتا تھا کہ وہ دنیا پر ایک دن غالب آکر رہے گی ۔ فرانس کا ایک مشہور مصنف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے اپنی ایک کتاب میں لکھتا ہے ممکن ہے بعض امور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی عظمت کے متعلق ہمیں مشبہ میں ڈال سکتے ہوں مگر ایک چیز ہے جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ کے جو (صلی ساتھیوں میں مجھے نظر آتی ہے اور میں جب بھی اس پر غور کرتا ہوں محو حیرت ہو کر رہ جاتا ہوں اور وہ یہ کہ آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے عرب کی سرزمین میں ایک مسجد میں جس کی دیواریں گارے سے بنی ہوئی ہیں ، جس کی چھت پر لکڑیاں نہیں بلکہ کھجور کی شاخیں پڑی ہوئی ہیں اور وہ اتنی کمزور ہے کہ ذرا بارش ہو تو پانی ٹپکنے لگ جاتا ہے ۔ اُس میں چند آدمی جمع ہیں اور وہ ایسے ہیں کہ جن کے تن پر پورا لباس بھی نہیں ۔ اگر بعض کے پاس پاجامے ہیں تو گرتے نہیں ، اگر کرتے ہیں تو پاجامے نہیں اور اگر کسی کے پاس گرتہ اور پاجامہ ہے تو اُس کے سر پر پگڑی نہیں ۔ اور گر کسی کے پاس سرڈھانکنے کیلئے پھٹی پرانی پگڑی ہے تو اسے جوتی میسر نہیں ۔ پھر وہ ان پڑھ ہیں ، وہ جاہل ہیں ، وہ دنیا کے کسی علم سے واقف نہیں ۔ غرض میں اپنے خیال کی نگاہ میں جب اُن کو دیکھتا ہوں تو وہ مجھے چند غریب اور بے کس انسان نظر آتے ہیں ۔ وہ ایک کچی مسجد میں بیٹھے ہیں ، وہ پورے لباس سے بھی عاری ہیں ، وہ جب نماز کیلئے کھڑے ہوتے ہیں اور سجدہ میں مجھکتے ہیں تو بارش کی وجہ سے اُن کی پیشانی کیچڑ میں لت پت ہو جاتی ہے ( یہ تمام