خطبات محمود (جلد 19) — Page 242
خطبات محمود ۲۴۲ سال ۱۹۳۸ ء کے امام کے تابع ہو کر رہے خواہ وہ امام چھوٹا ہی ہو کے اسی طرح جب گورنر کسی ی دورہ پر جاتا ہے تو گو وہ بڑا ہوتا ہے مگر ڈپٹی کمشنر کی مرضی اور اُس کے بنائے ہوئے پروگرام کے ماتحت اُسے کام کرنا پڑتا ہے۔ حضرت عمرؓ جب شام میں گئے تو حضرت ابو عبیدہ جو وہاں کے امیر تھے اُنہوں نے دریافت کیا کہ آپ کا پروگرام کیا ہوگا؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا یہاں میرا پروگرام نہیں بلکہ تمہارا پروگرام ہوگا اور جو کچھ تم کہو گے اُسی طرح میں کروں گا ۔ اب حضرت عمرؓ کا اُس وقت ایک قسم کی ماتحتی قبول کر لینا یہ معنے نہیں رکھتا کہ حضرت عمرؓ نے دوسرے کی غلامی پسند کر لی ۔ عمر بہر حال عمر تھے ۔ وہ حاکم تھے، روحانی بادشاہ تھے اور خلیفہ وقت تھے ۔ حضرت ابو عبیدہ اُن کے تابع تھے مگر تھوڑی دیر کیلئے حضرت عمر نے بھی ان کی ماتحتی اختیار کر لی ۔ اسی طرح ہم جو دنیوی احکام کو ملتے ہیں تو اس رنگ میں ملتے ہیں کہ انہیں اس وقت عارضی طور پر ہم پر برتری حاصل ہے مگر ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ کل وہ ہمارے شاگرد ہوں گے اور ہر قسم کی ترقی کے حصول کے سبق وہ ہم سے سیکھیں گے۔ اگر اس خیال کو ہم اپنی جماعت کے افراد کے ذہنوں میں پورے طور پر زندہ رکھیں اور اسے مضبوط کرتے چلے جائیں تو ایک منٹ کیلئے بھی ہماری جماعت کے نو جوانوں کے دلوں میں غلامی کا خیال پیدا نہیں ہو سکتا ۔ جیسے اُس بالا افسر کے دل میں غلامی کا خیال پیدا نہیں ہو سکتا جو تھوڑی دیر کیلئے کسی چھوٹے افسر کے ہاں جاتا اور اس کے پروگرام کا پابند ہو جاتا ہے۔ پس جماعت کے تمام دوستوں کو چاہئے کہ اپنے اپنے ہاں نو جوانوں کو منظم کریں اور ان کی ایک مجلس بنا کر خدام الاحمد یہ اُس کا نام رکھیں اور اُنہیں سلسلہ کے وقار کے تحفظ اور اسلام اور احمدیت کی ترقی کیلئے کام کرنے کی ترغیب دیں ۔ گزشتہ خطبہ میں میں نے اس امر کی طرف جماعت کے دوستوں کو توجہ دلائی تھی گو اتفاقی طور پر وقت زیادہ ہو جانے کی وجہ سے میں بعض باتیں بیان نہیں کر سکا تھا اور میں نے کہا تھا کہ اگلے خطبہ میں میں ان باتوں کو بیان کروں گا ۔ اُس وقت میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اگلے ا جمعہ کو تمام جماعتوں کے نمائندے آنے والے ہیں شاید آج اس مضمون کا کچھ حصہ رہ جانے میں یہی حکمت ہو کہ میں جماعت کے تمام دوستوں کو براہ راست اس امر کی طرف توجہ دلاؤں کیونکہ