خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 243

خطبات محمود ۲۴۳ سال ۱۹۳۸ء اخبار میں خطبہ کا پڑھ لینا اور بات ہے اور زبان سے کوئی بات سننا اور اثر رکھتا ہے۔پس اب چونکہ تمام جماعتوں کے نمائندے یہاں آئے ہوئے ہیں اس لئے میں ان سے خواہش کرتا ہوں کہ وہ اپنی اپنی جماعتوں میں جا کر نوجوانوں میں یہ تحریک کریں کہ وہ خدام الاحمدیہ نام کی مجالس قائم کریں۔اس مجلس کے قواعد میں تجویز کر رہا ہوں اور بعض موٹے موٹے قواعد جو میں نے بتائے تھے وہ تو غالبا مجلس خدام الاحمدیہ کے ارکان نے شائع بھی کر دیئے ہیں لیکن بہر حال تفصیلی قواعد انہیں پہنچ جائیں گے۔اس وقت اس کے ایک اور حصہ کی طرف میں جماعت کے دوستوں کو بالخصوص مرکزی کی مجلس خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں اور وہ یہ کہ نو جوانی میں بے شک خدمت دین کا کام کرنا اچھا ہوتا ہے کیونکہ ادھیڑ عمر میں بعض دفعہ انسان ان کاموں کے کرنے کی ہمت کھو بیٹھتا ہے مگر اس کی سے بھی بڑھ کر ایک اور کام ہے اور وہ یہ کہ بچوں کے اندر بھی یہی جذبات اور یہی خیالات پیدا کئے جائیں کیونکہ بچپن میں ہی اخلاق کی داغ بیل پڑ جاتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض کی کاموں کی داغ بیل جوانی میں پڑتی ہے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ بعض کاموں کی داغ بیل کی بچپن میں پڑتی ہے۔جوانی میں جن کاموں کی داغ بیل پڑتی ہے وہ بالعموم عملی ہوتے ہیں جن کے ذریعہ انسان کا ذہن بُرے اور بھلے کی تمیز کر لیتا ہے۔مگر قو میں صرف بُرے اور بھلے کی تمیز سے ہی ترقی نہیں کیا کرتیں بلکہ قوم کی ترقی کیلئے اچھی عادتوں کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔بے شک عادت بعض لحاظ سے نقصاں رساں بھی ہوتی ہے مگر عادت در حقیقت قومی ترقی کا ایک کی ضروری حربہ بھی ہوتی ہے۔کسی قوم کو نیک اخلاق کی عادت ڈال دو وہ خود بخود باقی اقوام پر غالب آنے لگ جائے گی اسی طرح جب کسی قوم میں بد عادات پیدا ہو جائیں تو وہ خود بخو دگرتی چلی جاتی ہے اور اگر اسے کسی بات کی بھی عادت نہ ڈالو تو اس قوم میں ایک تزلزل رہے گا۔کبھی اخلاقی رو غالب آگئی تو وہ ترقی کر جائے گی اور اگر اخلاقی رو دب گئی تو وہ گر جائے گی۔تو اصل حقیقی چیز یہ ہے کہ اچھی عادت بھی ہو اور علم بھی ہومگر یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب عادت کے زمانہ کی بھی اصلاح کی جائے اور علم کے زمانہ کی بھی اصلاح کی جائے۔عادت کا زمانہ بچپن کا زمانہ ہوتا ہے اور علم کا زمانہ جوانی کا زمانہ ہوتا ہے۔پس خدام الاحمدیہ کی