خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 215

خطبات محمود ۲۱۵ سال ۱۹۳۸ اور میرے قدم ڈگمگائے تو میں یہ سمجھوں گا کہ احمدیت پر ز د آ گئی۔حضرت طلحہ ایک بہت بڑے صحابی گزرے ہیں ان کا ایک ہاتھ لڑائی کے موقع پر شل ہو گیا تھا۔بعد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو جنگیں ہوئیں ان میں سے کسی موقع پر ایک شخص نے طنز احضرت طلحہ کو نجا کہہ دیا۔حضرت طلحہ نے کہا تمہیں پتہ بھی ہے میں کس طرح لنجا ہوا۔پھر انہوں نے بتایا کہ احد کے موقع پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کفار نے حملہ کر دیا اور کی اسلامی لشکر پیچھے ہٹ گیا تو اُس وقت کفار نے یہ سمجھتے ہوئے کہ صرف محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ذات ہی ایک ایسا مرکز ہے جس کی وجہ سے تمام مسلمان مجتمع ہیں ، آپ پر پتھر اور تیر برسانے شروع کر دیے۔میں نے اُس وقت دیکھا کہ اس بات کا خطرہ ہے کہ کہیں کوئی تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر آکر نہ آ لگے۔چنانچہ میں نے اپنا باز و رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کے آگے کر دیا۔کئی تیر آتے اور میرے بازو پر پڑتے مگر میں اسے ذرا بھی نہ کی ہلا تا یہاں تک کہ تیر پڑتے پڑتے میرا بازو شل ہو گیا۔کسی نے پوچھا جب تیر پڑرہے تھے تو اُس وقت آپ کے منہ سے کبھی اُف کی آواز بھی نکلتی تھی یا نہیں کیونکہ ایسے موقع پر انسان بے تاب ہو جا تا اور درد سے کانپ اُٹھتا ہے۔انہوں نے کہا میں اُف کس طرح کرتا جب انسان کے منہ سے اُف نکلتی ہے تو وہ کانپ جاتا ہے۔پس میں ڈرتا تھا کہ اگر میں نے اُف کی تو ممکن ہے میرا ہاتھ کانپ جائے اور کوئی تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جا کر لگ جائے اس لئے میں نے اف بھی نہیں کی۔۱۵ دیکھو کتنا عظیم الشان سبق اس واقعہ میں پنہاں ہے۔طلحہ جانتے تھے کہ آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی حفاظت میرا ہاتھ کر رہا ہے۔اگر میرے اس ہاتھ میں ذرا بھی حرکت ہوئی تو تیر نکل کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جا لگے گا۔پس انہوں نے اپنے ہاتھ کو نہیں ہلا یا کیونکہ وہ کی جانتے تھے کہ اس ہاتھ کے پیچھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ ہے۔اسی طرح اگر تم بھی اپنے اندر یہ احساس پیدا کرو، اگر تم بھی یہ سمجھنے لگو کہ ہمارے پیچھے اسلام کا چہرہ ہے اور اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم دو نہیں بلکہ ایک ہیں تو تم بھی ایک مضبوط چٹان کی طرح قائم ہو جاؤ اور تم بھی ہر وہ تیر جو اسلام کی طرف پھینکا جاتا ہے اپنے ہاتھوں اور سینوں پر لینے کیلئے تیار ہو جاؤ۔