خطبات محمود (جلد 19) — Page 216
خطبات محمود ۲۱۶ سال ۱۹۳۸ء پس یہ مت خیال کرو کہ تمہارے ممبر کم ہیں یا تم کمزور ہو بلکہ تم یہ سمجھو کہ ہم جو خادم احمدیت ہیں ہمارے پیچھے اسلام کا چہرہ ہے۔تب بیشک تم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسی طاقت ملے گی جس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکے گا۔پس تم اپنے عمل سے اپنے آپ کو مفید وجود بناؤ۔غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرو نہ صرف اپنے مذہب کے غریبوں اور مسکینوں کی بلکہ ہر قوم کے غریبوں اور بیکسوں کی۔تا دنیا کو معلوم ہو کہ احمدی اخلاق کتنے بلند ہوتے ہیں۔مشورہ دینے کے لحاظ سے میں ہر وقت تیار ہوں مگر میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم نمایاں شخصیتوں کو اپنا ممبر مت بناؤ کیونکہ بڑے درخت کے نیچے اگر آؤ گے تو تمہاری اپنی شاخیں سوکھ جائیں گے۔اسی طرح سچائی کو اپنا معیار قرار دو۔قواعد کے تیار کرنے میں میں انشاء اللہ تمہاری ہر طرح مدد کروں گا۔سر دست یہ نصیحت کرتا ہوں کہ تم ہر نمبر سے یہ اقرار لو کہ اگر وہ جھوٹ بولے گا اور اس کا جھوٹ ثابت ہو جائے گا تو وہ خوشی سے ہر سزا برداشت کرنے کیلئے تیار رہے گا۔جب تمکی سچائی پر قائم ہو جاؤ گے، جب تم نمازوں میں با قاعدگی اختیار کر لو گے، جب تم دین کی خدمت کی کیلئے رات دن مشغول رہو گے ، تب جان لینا کہ اب تمہارا قدم ایسے مقام پر ہے جس کے بعد کوئی گمراہی نہیں۔اسی طرح تمہیں چاہئے کہ تم تحریک جدید کے متعلق میرے گزشتہ خطبات سے تمام ممبران کو واقف کرو اور ان سے کہو کہ وہ اوروں کو واقف کریں۔اور پھر ہر شخص اپنی ماں اور اپنی بہن اپنی بیوی اور اپنے بچوں کو ان سے واقف کرے۔اسی طرح میں لجنات اما ء اللہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس رنگ میں کام کریں اور جہاں جہاں لجنہ ابھی تک قائم نہیں ہوئی وہاں کی عورتیں اپنے ہاں لجنہ اماء اللہ قائم کریں اور وہ بھی اپنے آپ کو تحریک جدید کی والٹیئر ز سمجھیں اور اسلام کی ترقی کیلئے اپنی زندگی کو وقف قرار دیں۔اگر تم یہ کام کرو تو گو دنیا میں تمہارا نام کوئی جانے یا نہ جانے (اور اس دنیا کی زندگی کی حقیقت ہے ہی کیا ہے۔چند سال کی زندگی ہے اور بس ) مگر خدا تمہارا نام جانے گا اور جس کا نام خدا جانتا ہو اس سے زیادہ مبارک اور خوش قسمت اور کوئی نہیں ہوسکتا۔“ (الفضل۔۱ را پریل ۱۹۳۸ء)