خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 214

خطبات محمود ۲۱۴ سال ۱۹۳۸ء فرض ہوگا کہ اس انجمن کے ساتھ اپنی انجمنوں کا الحاق کریں اور اس انجمن کی اپنے آپ کو کی شاخ سمجھیں۔اسی طرح ہر جگہ ان کا یہ کام ہو گا کہ وہ سلسلہ کا لٹریچر پڑھیں ، نو جوانوں کو دینی اسباق دیں مثلا صبح کے وقت یا کسی اور وقت ایک دوسرے کو پڑھایا جائے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھنے کیلئے کہا جائے اور پھر ان کا امتحان لیا جائے ، اسی طرح وہ خدمت خلق کے کام کریں اور خدمت خلق کے کام میں یہ ضروری نہیں کہ مسلمان غریبوں اور مسکینوں اور بیواؤں کی خبر گیری کی جائے بلکہ اگر ایک ہندو یا سکھ یا عیسائی یا کسی اور مذہب کا پیروکسی دُکھ میں مبتلا ہے تو تمہارا فرض ہے کہ اس کے دکھ کو دور کرنے میں حصہ لو۔کہیں جلسے ہوں تو اپنے آپ کو خدمت کیلئے پیش کر دو۔میں نے اسی قسم کے کاموں اور مقاصد کیلئے احمد یہ نیشنل لیگ کو ر قائم کرنے کی اجازت دی تھی۔مگر مجھے افسوس ہے کہ اس کا بہت سا وقت لیفٹ اور رائٹ میں ہی خرچ ہو گیا۔وہ اپنے دائیں اور بائیں دیکھتے رہے مگر انہوں نے اپنے سامنے کبھی نہ دیکھا۔میں یہ نہیں کہتا کہ انہوں نے اس وقت تک کوئی مفید کام نہیں کیا۔انہوں کی ۱۴ نے بھی بعض مفید کام کئے ہیں۔خصوصاً جلسہ سالانہ کے موقع پر اور دوسرے اجتماعوں کے مواقع پر ان کا جو انتظام ہوتا ہے وہ بہت اچھا ہوتا ہے مگر قواعد کرنے کے علاوہ یا بعض جسمانی خدمات کے علاوہ اور جن کاموں کی میں ان سے امید رکھتا تھا وہ پورا نہیں ہوا ( میرے پاس کی لیگ کو ر کی قواعد کرانے والے افسروں نے اپنے کام کی فہرست پیش کی ہے کہ وہ فلاں فلاں کام کرتے رہے ہیں۔میں خطبہ میں ان کے کام کے اس حصہ کا خود ہی اعتراف کر چکا ہوں۔میرا اظہارِ خیال قواعد سکھانے والوں کے مطابق نہیں۔انہوں نے باقاعدگی سے کام کیا ہے اور اس کا مجھے اعتراف ہے۔جو شکوہ میں نے کیا ہے وہ لیگ کا ہے کہ دوسری اغراض جو علاوہ قواعد کے تھیں وہ انہوں نے باوجود درجنوں دفعہ مجھ سے مشورہ لینے کے پوری نہیں کیں )۔بہر حال میں امید کرتا ہوں کہ اگر نیشنل لیگ نے یہ مقصد پورا نہیں کیا تو اب مجلس خدام الاحمدیہ کے ارکان ہی اس مقصد کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے اور اپنی زندگی کو کارآمد بنا ئیں گے اور سلسلہ کے درد کو اپنا درد سمجھیں گے لیکن جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں مجلس خدام الاحمدیہ میں جو بھی شامل ہے ہو وہ یہ اقرار کرے کہ میں آئندہ یہی سمجھوں گا کہ احمدیت کا ستون میں ہوں اور اگر میں ذرا بھی ہلا