خطبات محمود (جلد 19) — Page 207
خطبات محمود ۲۰۷ سال ۱۹۳۸ء خیال بھی دل میں نہ آئے اور میں تو سمجھتا ہوں بجائے اس کے کہ وہ تعداد بڑھانے کے شوق میں کام نہ کرنے والوں کو اپنے اندر شامل کریں جنہیں بعد میں نکالنا پڑے، یہ زیادہ بہتر ہے کہ صرف کام کرنے والوں کو اپنے اندر شامل کیا جائے اور جو کام کرنے کا شوق نہیں رکھتے انہیں شامل نہ کیا جائے کیونکہ اندر سے گند کا نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن باہر سے گند نہ آنے دینا بہت آسان ہوتا ہے۔پس ان کو اپنے نمونہ سے ایک نیک مثال قائم کرنی چاہئے پھر خود بخود نو جوانوں کے دلوں میں تحریک پیدا ہوگی اور وہ بھی ان کے کام میں شریک ہونے کی خواہش کریں گے کیونکہ وہ دیکھیں گے کہ باوجود کام کرنے کے یہ زندہ اور ہشاش بشاش ہیں پھر ہمارا کی کیا بگڑتا ہے اگر ہم بھی کام کریں اور نیک نامی حاصل کریں۔دنیا میں کئی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم نے اتنا وقت فلاں کام کیلئے دے دیا تو دوستوں سے گئیں ہانکنے کیلئے ہمارے پاس کوئی وقت نہیں رہے گا اور اس طرح ہماری ساری بشاشت اور زندہ دلی ماری کی جائے گی مگر جب وہ دیکھتے ہیں کہ کام کرنے والوں کے چہرے بھی ویسے ہی ہشاش بشاش ہیں کی اور پھر زائد بات یہ ہے کہ انہیں لوگوں میں نیک نامی حاصل ہے تو پھر وہ بھی سمجھتے ہیں کہ دوستوں میں بیٹھ کر دو دو چار چار گھنٹے گیں ہانکنے کی نسبت یہ بہتر ہے کہ خدمت خلق کا کوئی کام کیا جائے۔پس افراد کا ان کو کوئی خیال نہیں کرنا چاہئے۔جو شخص ان کی مجلس میں شامل نہیں ہوتا اس کے متعلق انہیں کوئی شکوہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اپنا عملی نمونہ بہتر سے بہتر دکھانا چاہئے۔اگر تم نو جوانوں کے لئے کامل نمونہ بن جاؤ تو یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ تم سے نہ ملیں۔وہ اگر نہ ملیں تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ تمہارے نمونہ میں کوئی نقص ہے۔یہاں بھی اور باہر کی جماعتوں میں بھی کئی غرباء ہوتے ہیں، کئی بیمار ہوتے ہیں جنہیں کوئی دوائی لا کر دینے والا نہیں ہوتا ، کئی بیوائیں ہوتی کی ہیں جنہیں سو دا سلف لا کر دینے والا کوئی نہیں ملتا۔آخر یہ کتنی بے شرمی کی بات ہے کہ ایک شخص بازار میں کسی دکان پر یا اپنے کسی دوست کے مکان پر بیٹھ کر دو دو تین گھنٹے کہیں مارتا چلا جاتا ہے مگر جب اُسے کہا جاتا ہے کہ آؤ اور خدمت خلق کیلئے تھوڑا سا وقت دو تو وہ کہنے لگ جاتا ہے کیا کروں، بڑا کام ہے ، ذرا بھی فرصت نہیں ملتی حالانکہ جس وقت وہ گئیں مار رہا ہوتا ہے، جب وہ