خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 206

خطبات محمود ۲۰۶ سال ۱۹۳۸ء کہ کام کرنے والے چاہئیں۔ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ محض تعداد بڑھانے کے شوق میں نا اہلوں کو بھی شامل کر لیا جائے۔ہم سے زیادہ تعدا د شیعوں کی ہے اور ان سے بھی زیادہ حنفیوں کی ہے۔پھر غیر مسلموں کو جمع کیا جائے تو وہ مسلمان کہلانے والوں سے زیادہ ہیں۔پس اگر تعداد کی زیادتی پر ہی مدار رکھا جائے تو پھر تو انسان کو باطل کی طرف جھکنا پڑتا ہے حالانکہ نیک کام ہمیشہ نیک بنیاد سے ہوتے ہیں۔میں کہتا ہوں یہ سوال نہیں کہ تمہارے دس ممبر ہیں یا نہیں یا پچاس یا ہو۔اگر مجلس خدام الاحمدیہ کا ایک سیکرٹری یا پریذیڈنٹ ہی کسی ہاتھ میں لے لے اور گلیوں کی تج صفائی کرتا پھرے یا لوگوں کو نماز کے لئے بلائے یا کوئی غریب بیوہ جس کے گھر سو دا لا کر دینے والا کوئی نہیں اسے سودا لا کر دے دیا کرے تو بے شک پہلے لوگ اسے پاگل کہیں گے مگر چند دنوں کے بعد اس سے باتیں کرنی شروع کر دیں گے۔پھر انہی میں سے بعض لوگ ایسے نکلیں گے جو کہیں گے کہ ہمیں اجازت دیں کہ ہم بھی آپ کے کام میں شریک ہو جائیں۔اس طرح وہ ایک سے دو ہوں گے ، دو سے چار ہوں گے اور بڑھتے بڑھتے ہزاروں نہیں لاکھوں تک پہنچ سکتے ہیں۔تو نیک کام کرتے وقت کبھی یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ کتنے آدمی اس میں شریک ہیں۔اگر وہ کام جسے تم کرنا چاہتے ہو واقع میں نیک اور پسندیدہ ہے تو تھوڑے ہی دنوں میں تم ایک سے دس ہو جاؤ گے، پھر دس سے سو بنو گے اور سو سے ہزار ہو جاؤ گے کیونکہ نیک کام اثر کئے کی بغیر نہیں رہتا۔آجکل یورپ میں ایک بہت بڑی انجمن ہے جس کی نہ صرف یورپ میں بلکہ سارے ایشیا کی میں شاخیں ہیں۔روٹری کلب اس کا نام ہے اور لاکھوں اس کے ممبر ہیں۔یہ کلب امریکہ سے شروع ہوئی تھی۔پہلے اس میں صرف تین آدمی شامل تھے۔لوگ ان سے مخول کرتے ، انہیں پاگل اور احمق قرار دیتے مگر وہ خاموشی سے اپنے کام میں مشغول رہے یہاں تک کہ سال دوسال کے بعد سات آٹھ ممبر ہو گئے اور پھر تین چار سال کے بعد تو سینکڑوں تک نوبت پہنچ گئی۔اب اسے قائم ہوئے غالباً بیس پچیس سال گزر چکے ہیں اور اس کے لاکھوں ممبر یورپ اور ایشیا میں موجود ہیں۔تو یہ خیال پیدا ہو جانا کہ ہماری مجلس میں کم آدمی شامل ہیں، زیادہ شامل ہونے چاہئیں ، یہ بھی بتاتا ہے کہ مخفی طور پر دل میں شہرت کی خواہش ہے ورنہ مقصد ہو تو تعداد کا