خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 208

خطبات محمود ۲۰۸ سال ۱۹۳۸ء اپنے نہایت قیمتی وقت کا خون کر رہا ہوتا ہے اُس وقت اس کے محلہ میں ایک بیوہ عورت کے بچے بلک بلک کر رور ہے ہوتے ہیں اور اس کے پاس کوئی شخص نہیں ہوتا جو اسے آٹا لا کر دے یا دال لا کر دے۔آخر یہ لوگ خدا کو کیا جواب دیں گے۔کیا جس وقت وہ یہ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی وقت نہیں تھا اُس وقت خدا یہ نہیں کہے گا کہ تیرے پاس دو گھنٹے گئیں ہانکنے کیلئے تو تھے مگر تجھے پندرہ منٹ کی فرصت نہیں تھی کہ تو اس بیوہ کے بچوں کیلئے سو دالا کر دے دیتا۔تو تم اپنا عملی نمونہ جس وقت لوگوں کے سامنے پیش کرو گے یہ ناممکن ہے کہ لوگ تم میں شامل ہونے کی کی خواہش نہ کریں۔یہ سلسلہ تو خدا کا ہے اور اس میں اس کے وہ بندے شامل ہیں جن کو خدا نے اپنی رضا کیلئے چن لیا۔میں کہتا ہوں ایک کافر سے کا فر بھی نیک نمونہ دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔حضرت خلیفہ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ آپ کے ایک استاد مولوی رحمت اللہ صاحب تھے جو بعد میں مدینہ چلے گئے۔وہ بڑے نیک اور بزرگ تھے مگر عیسائی مذہب سے انہیں کوئی واقفیت نہ تھی۔ایک دفعہ عیسائیوں کے ساتھ ان کا مباحثہ قرار پایا۔ان کے مقابلہ میں جو پادری تھا وہ بڑا ہوشیار اور عالم تھا مگر یہ صرف قرآن اور حدیث جانتے تھے اور چونکہ دانا اور سمجھدار تھے اس لئے کہتے تھے کہ اگر میں نے قرآن اور حدیث کو اس کے سامنے پیش کیا تو وہ کہہ دے گا کہ میں ان کو نہیں مانتا۔دلیل ایسی چاہئے جسے یہ بھی تسلیم کرے اور وہ مجھے آتی نہیں۔آخر کہنے لگے لوگوں سے کیا کہنا ہے آؤ خدا سے دعا کرتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے دعا کی رات کو گیارہ بجے کے قریب ان کے دروازے پر کسی نے دستک دی۔انہوں نے دروازہ کھولا تو ایک شخص بجبہ پہنے ہوئے اندر داخل ہوا اور کہنے لگا صبح آپ کا فلاں پادری سے مباحثہ ہے، میں بھی پادری ہوں مگر میں سمجھتا ہوں کہ توحید کے معاملہ میں آپ حق پر ہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کی کہ آپ بعض حوالے نوٹ کر لیں کیونکہ ممکن ہے ان حوالوں کا آپ کو علم نہ ہو۔چنانچہ اُس نے تمام حوالے لکھوا دیے اور صبح جب مناظرہ ہوا تو وہ پادری یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ انہیں تو ی کسی حوالے کا علم نہ تھا اب یہ کیا ہوا کہ یہ کہیں یونانی کتب کے حوالے دے رہے ہیں تو کہیں عبرانی کتب کے حوالے پڑھ رہے ہیں، کہیں انگریزی کتب سے اقتباس پیش کر رہے ہیں تو کی