خطبات محمود (جلد 19) — Page 146
خطبات محمود ۱۴۶ سال ۱۹۳۸ ء پس پہلے بزرگ گنہگار نہیں تھے اور اس زمانہ کے لوگ گنہگار ہیں ۔ اسی طرح جب تک ہائیکورٹ نے اپنے الفاظ کی وضاحت نہیں کی تھی اس قسم کا مفہوم لینا بد دیانتی نہیں کہلا سکتا تھا مگر اب کہ جوں نے اپنے الفاظ کی وضاحت کر دی ہے، وہ مفہوم لینا بد دیانتی ہے ۔ مگر ان لوگوں کی دیانت کا یہ حال ہے کہ وہ اب بھی یہی مفہوم لے رہے ہیں ۔ ان کے ہمدرد اخبارات فیصلہ کو چھاپتے نہیں صرف یہ لکھ رہے ہیں کہ ہائیکورٹ نے درخواست مستر د کر دی مگر یہ نہیں بتاتے کہ کیوں درخواست مسترد کی گئی ۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ جیسے زید بکر کے پاس ایک ہزار روپیہ امانت کے طور پر رکھے اور پھر کچھ عرصہ کے بعد اس کے پاس جائے کہ میں نے جو ایک ہزار روپیہ آپ کے پاس امانت رکھا تھا وہ مجھے واپس دے دیں ۔ اس پر بکر جواب دے کہ مجھے آپ کا پیغام اس سے پہلے مل چکا ہے اور میں نے اسی وقت فلاں آدمی کے ہاتھ روپیہ آپ کے گھر بھجوا دیا ہے۔ اس پر زید بجائے گھر جا کر روپیہ وصول کرنے کے لوگوں میں شور مچا دے کہ بکر میرا روپیہ دینے سے انکاری ہے ۔ اس میں کیا شک ہے کہ الفاظ میں بکر یہی کہتا ہے کہ میں آپ کو روپیہ نہیں دیتا ۔ مگر وہ یہ لفظ اس ۔ مگر وہ یہ لفظ اس لئے نہیں کہتا کہ وہ امانہ کہتا کہ وہ امانت سے منکر ہے بلکہ اس لئے کہ وہ کہتا ہے کہ میں آپ کے آنے سے پہلے ہی روپیہ بھجوا چکا ہوں ۔ بعینہ اسی طرح ہائیکورٹ نے میری درخواست کو مستر د کیا ہے۔ یعنی انہوں نے میری اس درخواست کے جواب میں کہ آپ کے فلاں الفاظ کے لوگ یہ معنے کرتے ہیں کہ گویا میں نے اپنے خطبات میں جسمانی سزا کی طرف اشارہ کر کے قتل کی انگیخت کی ہے اور ایسا میں نے ہرگز نہیں کیا اس لئے ان الفاظ کی اصلاح کی جائے ۔ یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم نے ایسا ہر گز نہیں کہا اور لوگ ہماری طرف غلط بات منسوب کرتے ہیں ۔ پس جبکہ ہماری عبارت کا وہ مفہو مفہوم نہیں جو لوگ لیتے ہیں تو ہم تو ہمیں کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ ہم اپنے الفاظ کو بدلیں ۔ پس درخواست مستر د ہے ۔ ہر دیانتدار آدمی جانے گا کہ یہ ویسی ہی مثال ہے جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں ۔ یعنی بکر زید کو روپیہ دینے سے اس لئے انکار کرتا ہے کہ وہ پہلے ادا کر چکا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہائیکورٹ کے فاضل ججوں کیلئے میری درخواست کی منظوری کے متعلق دو ہی صورتیں ممکن تھیں ۔ یا تو وہ کہتے کہ ہم خطبہ کا مطلب پہلے وہی سمجھتے تھے جو مصری اور ان کے ساتھیوں نے سمجھا لیکن اب ہم سمجھ گئے ہیں کہ ہم نے پہلے