خطبات محمود (جلد 19) — Page 147
خطبات محمود ۱۴۷ سال ۱۹۳۸ جو بات کبھی تھی وہ غلط تھی اس لئے اپنے الفاظ کاٹ دیتے ہیں۔اور دوسری صورت یہ تھی کہ وہ یہ کہ کہتے کہ ہم نے وہ الزام آپ پر لگایا ہی نہیں جو آپ یا دوسرے خیال کرتے ہیں کہ ہم نے لگایا ہے۔پس چونکہ ہم نے ایسا کہا ہی نہیں اس لئے ہم اپنے الفاظ کو کاٹتے بھی نہیں۔ظاہر ہے کہ مؤخر الذکر فیصلہ تو پہلی صورت سے بھی زیادہ ہمارے لئے مفید ہے کیونکہ اگر جز پہلی صورت اختیار کرتے تو کوئی کہہ سکتا تھا کہ خطبہ کے الفاظ ایسے مشتبہہ تھے کہ ایک دفعہ تو ہائی کورٹ کے جوں کو بھی غلطی لگ گئی مگر وہ تو کہتے ہیں کہ ہمیں تو پہلے بھی کوئی غلطی نہیں لگی۔ہم پہلے بھی یہی سمجھتے تھے کہ ان الفاظ میں روحانی سزا کا ذکر ہے اور اب بھی یہی سمجھتے ہیں۔اور جب ہم نے پہلے بھی یہ نہیں سمجھا تو ہم کا ٹیں کس بات کو۔چنانچہ ان کا فیصلہ یہ ہے۔یہ درخواست مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ قادیان کی طرف سے اس غرض کیلئے دی گئی ہے کہ ہم نے فوجداری اپیل ۱۱۲ آف ۱۹۳۷ ء کے فیصلہ میں جو ۳ / جنوری ۱۹۳۸ ء کو کیا گیا ہے بعض ریمارکس ایسے کئے تھے جنہیں حذف کر دیا جائے۔مرافعہ گزار کے وکیل مسٹر سلیم نے ہماری توجہ اس امر کی طرف مبذول کرائی ہے کہ ہمارے فیصلہ کے آخری پیرا گراف کے ایک فقرہ کا غلط مطلب لے کر اسے امام جماعت احمدیہ کے خلاف پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔وہ فقرہ یہ ہے اگر ہم اپیل کنندہ کے وکیل کے اس استدلال کو قبول بھی کریں کہ خلیفہ صاحب کا سزا سے مقصد روحانی سزا تھا تو بھی یہ یاد رکھنا چاہئے کہ مذہبی راہنماؤں کے بعض پُر جوش پیروؤں کیلئے روحانی اور جسمانی سزا میں امتیاز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔بہر نوع اس ملک میں ایسے مذہبی دیوا نے موجود ہیں جو ایسی سزاؤں کی تکمیل کیلئے اپنے آپ کو خدا کا آلہ کا رسمجھتے ہیں“۔کہا گیا ہے کہ خلیفہ صاحب کے مخالف اس فقرہ کا یہ مطلب لے رہے ہیں کہ خلیفہ صاحب کی اس تقریر میں جس کا ہم نے ذکر کیا تھا سزا سے روحانی سزا مراد نہیں بلکہ جسمانی سزا مراد تھی اور فی الحقیقت اس میں تشدد کی تلقین کی گئی تھی۔